ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2016 |
اكستان |
|
ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے میں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہوکرسلام کیا آپ نے فرمایا وعلیکم السلام تو کون ہے ؟ میں نے کہا قبیلہ غفار کا ہوں ۔آپ نے فرمایا تم یہاں کب سے ہو ؟ میں نے کہا تیس روز سے، آپ نے فرمایا تم کو کھانا کون دیتا تھا ؟ میں نے عرض کیا حضور ۖ میرے پاس سوائے زم زم کے پانی کے اور کوئی غذا نہیںتھی لیکن الحمدللہ میں پہلے سے موٹا ہوں اور کبھی بھی مجھ کو بھوک کی تکلیف محسوس نہیں ہوئی۔ حضور ۖ نے فرمایا : اِنَّھَا مُبَارَکَة اِنَّھَا طَعَام طَعِم اِس کے بعد حضور ۖ کی خدمت میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا حضور ۖ آج کی رات مجھے اِجازت دیجیے کہ میںاِن کو کھانا کھلا دُوں، حضور ۖ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اِجازت دے دی تب میں ابوبکر اور حضور ۖ حرم شریف سے رُخصت ہوئے اور ابو بکر اپنے مکان پرپہنچے دروازہ کھلوایا اور میرے لیے طائف کی کشمش لے کرآئے تو تیس دن بعد جو سب سے پہلی غذا میرے پاس پہنچی وہ طائف کی یہ کشمشیں تھیں جومیں نے خوب سیر ہوکر کھائیں ۔(البدایہ ج ٣ ص ٣٦٥ لابن کثیر) ٭ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کفار کے ظلم سے تنگ ہو کرولید بن مغیرہ کی پناہ میں آگئے تھے اور ولید بن مغیرہ نے اِن کو اپنی پناہ اور حمایت میں رکھا ہوا تھا لیکن جب حضرت عثمان نے دیکھا کہ حضور کے صحابہ کوجن کاکوئی پناہ دینے والا نہیںوہ قسم قسم کی تکلیفیں اور مصیبتیں برداشت کرتے ہیں اور میں ولید کی وجہ سے امن و اَمان سے صبح و شام مکہ میں بغیر کسی تکلیف کے پھرتا ہوں تو اِن کو غیرت آئی اور اپنے نفس کو ملامت کرتے ہوئے کہنے لگے خدا کی قسم ! ایک مشرک کی حمایت میں میرا پھرنا اور اپنے دینی بھائیوں کو سخت سے سخت تکلیفوں اور اِسلام کی خاطر ہر قسم کی مصیبتوں کوبر داشت کرتے ہوئے دیکھنا تیری غیرت کے خلاف ہے بس تیرے لیے یہی مناسب ہے کہ تو اُس مشرک کی حمایت چھوڑ کر اِسلام کی خاطر تو بھی اپنے بھائیوں کی طرح مصیبتیں اور تکلیفیں برداشت کر چنانچہ میںولید کے پاس گیا اور اُس سے کہا اے ابو عبد شمس ! تیری ذمہ داری پوری ہوگئی اور میں تیری حمایت اور پناہ تجھ کو واپس کرتا ہوں۔ ولید کہنے لگا کیوں شاید میری قوم کے کسی فرد نے تجھ کو کوئی تکلیف پہنچائی ہے۔ حضرت عثمان بولے نہیں نہیں، لیکن تیری حمایت چھوڑ کر اب میں اللہ کی حمایت میںآنا پسند