ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2016 |
اكستان |
|
خدمت میں حاضر ہوکر کہنے لگا : یا محمد ! کس چیز کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا میں دعوت دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اُس کا کوئی شریک نہیں اور محمد ۖ اُس کا بندہ اور رسول ہے اور اِس کی دعوت دیتا ہوں کہ تو پتھروں کی پوجا چھوڑ دے جونہ سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ اُن کو یہ معلوم ہے کہ کون اُن کی پوجا کرتا ہے اور کون اُن کی پوجا نہیں کرتا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِس پر حضور ۖ خوش ہوئے او ر خالد رضی اللہ عنہ اِس کے بعد گھر سے غائب رہنے لگے، کچھ روز بعد اُن کے باپ کو معلوم ہوا کہ خالد مسلمان ہوگئے ہیں تواُن کے والد نے اِن کی تلاش کرائی آخرکار یہ پکڑے گئے، جب والد کے پاس پہنچے تو اُس کے ہاتھ میں ہتھوڑا تھا اُس ہتھوڑے سے اُن کے سر پر مارنا شروع کیا اور اِتنا مارا کہ ہتھوڑے کادستہ اُن کے سرپر ٹوٹ گیا اور کہا کہ خدا کی قسم تیراکھانا بندکردُوں گا، اِس پرحضرت خالد رضی اللہ عنہ بولے اگرتو بند کردے گا میرا اللہ جب تک میں زندہ رہوں گا مجھے اپنی قدرت سے دے گا اور اِس کے بعد حضور ۖ کی خدمت میں ہمیشہ کے لیے رہنے لگے۔ (اَلبدایہ ج ٣) ٭ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ جب اِسلام کے شو ق میں مکہ مکرمہ میں حاضر ہوئے توایسا وقت تھا کہ جنابِ رسول اللہ ۖ کی کسی سے بات کرنا اور آپ کاپتہ بھی پوچھنا بہت بڑا جرم تھا اِس لیے ابوذر آپ کے اِنتظار میں مکہ معظمہ تشریف لائے، اِتفاق سے آپ نے کسی مشرک سے پوچھا کہ جس کو ''صابی'' کہتے ہو یعنی رسول اللہ ۖ کہاں ہیں ؟ بس اِتنا پوچھنا تھا کہ اُس مشرک نے میری طرف اِشارہ کیا تو وہاں کے لوگ مجھ پر پتھراور ہڈیاں لے کر پِل پڑے اور مجھے اِتنامارا کہ میں بے ہوش ہوکر زمین پر گرپڑا پھر جب مجھ کو ہوش آیاتومیں اِس حالت میںاُٹھا کہ خون کالوتھڑا تھا پھر میں زم زم کے کنویںکے پاس آیا اور اُس کا پانی پیا اور اپنے خون کو اُس سے صاف کیا اور خانہ کعبہ کے پردوں میں تیس روز تک چھپا رہا اور اِس عرصہ میں سوائے زم زم کے دُوسری کوئی چیز میرے حلق میں نہیں پہنچی، تیس روز کے بعد اِتفاق سے حضور ۖ کی ملاقات بیت اللہ میں ہوئی آپ کے ساتھ حضرت