ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2016 |
اكستان |
|
ظاہر کر کے اپنی مشرکانہ رسومات بے دھڑک ادا کرتے ہیں، آپ نے فرمایا : یَاعُمَرُ اِنَّا قَلِیْل قَدْ رَاَیْتَ مَا لَقِیْنَا اے عمر ! ہم تھوڑے ہیں اور تجھ کو معلوم ہے کہ جو کچھ ہمارے ساتھ پیش آچکا۔ حضرت عمر نے کہا قسم ہے اُس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا میں جس مجلس میں بھی کفر کے ساتھ بیٹھا تھا اُسی مجلس میں جا کر اپنے اِیمان کوبے دھڑک ظاہر کروں گا، یہ کہہ کر آپ حضور ۖ کے پاس سے رُخصت ہوئے، بیت اللہ میں آئے طواف کیا پھر قریش کی مجلس میں پہنچے، قریش آپ کااِنتظار کر رہے تھے تو اَبوجہل بولا عمر ہم نے سنا ہے توبھی مرتد ہو گیا، تب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے باآوازِ بلند کہا اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہ لَا شَرِیْکَ لَہ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہ وَرَسُوْلُہ پس قریش کا یہ کلمہ سننا تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ پرحملہ کرنے کے لیے ٹوٹنا تھا، آناً فاناً تمام لوگ ایک دم آپ پر حملہ آور ہو گئے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہو شیاری کی اور عُتبہ کو قبضہ میں کرکے اُس پر چڑھ بیٹھے یہ لوگ حضرت عمررضی اللہ عنہ کو مار رہے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نیچے پڑے ہوئے عتبہ کو مار رہے تھے یہاں تک کہ حضرت عمر نے عتبہ کی آنکھوں میں اُنگلیاں دے دیں اور جب عتبہ چیخنے لگاتو لوگ گھبرا کرحضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہٹ گئے تب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی عتبہ کوچھوڑ دیا اور واپس تشریف لائے پس اب تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو گُر ہاتھ لگ گیا جب بھی یہ لوگ آپ پرحملہ کرتے آپ اُن کے سر دار کو پکڑ لیتے اور خوب کوٹتے یہاں تک کہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے عاجز ہو گئے اورمجبورہو کر اِن کا پیچھاچھوڑ دیا۔ (اِبن کثیر) ٭ حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے اِسلام لانے کا سبب یہ ہوا کہ میںنے خواب میں دیکھاکہ آگ کے بہت بڑے گھڑے پر کھڑا ہوں ایک آنے والا آیا اُس نے مجھے اِس میں دھکیلناچاہا تو حضور ۖ نے مجھے پکڑ لیا اور اُس میں مجھے گرنے نہ دیا، میں اپنی نیندسے جاگا اور گھبرایا ہوا اُٹھا اور اپنے دل میں کہنے لگا خدا کی قسم یہ خواب سچا ہے۔ اِس کے بعد حضرت اَبو بکر سے ملا اور اُن سے اپنا خواب بیان کیا تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا دیکھ وہ رسول اللہ ۖ ہیں اِن کا اِتباع کر اور اِسلام قبول کر اِسلام ہی تجھ کو جہنم میں جانے سے بچائے گا چنانچہ میں رسول اللہ ۖ کی