ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2015 |
اكستان |
|
ردّوبدل ہوا ہوگا، اُن کا خیال تھا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کی اِس خدمت کو مشکوک بنا دیا جائے تو وحی پر اِعتماد اُٹھ جا ئے گا لیکن رب العزت نے اُن لوگوں کے اِس پروپیگنڈے کو رد کرتے ہوئے فرمایا : ( اِنَّہ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ ، ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ ، مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ ) (سُورة التکویر: ١٩ـ٢١) کہ یہ کسی عام آدمی کی بات نہیں ہے، ایک محترم پیغام رساں کی بات ہے ، ایسا محترم پیغام رساں جو اپنی ذات میں طاقتوراور عرش والے کے ساتھ رہتا ہے اور عرش والے کی رفاقت اُسے نصیب ہے اورمعمولی شخصیت نہیں ہے۔ ''مُطَاعٍ'' اکیلے نہیں آرہا، ملائکہ کے حفاظتی دستے اُس کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں ،کوئی شیطانی حربہ اِس اَمانت پر ہا تھ ڈالنے کی جرأت نہیں کرسکتا ، '' ثَمَّ أَمِیْنٍ'' اپنی ذات میں بھی وہ اَمانت دار، اپنی ذات میں بھی وہ محترم اور خارجی لحاظ سے اُس کی نسبت بھی اِتنی عظیم کہ تمام زندگی عرش والے کے پڑوس میںرہا اور پھرملائکہ کی صورت میں حفاظتی دستے بھی ساتھ ساتھ آرہے ہیں، لہٰذامطمئن رہو کہ جو کلام ہم نازل کر رہے ہیں اُس کا ایک ایک لفظ ،زبر، زیر اور ترتیب کے ساتھ محفوظ ہے اور اِس میں کسی بھی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ جب اِن شیطانی قوتوں کی یہ سازش ناکام ہو گئی تو پھر جنابِ رسول اللہ ۖ کی ذات کو نشانہ بنایا، چونکہ اُس زمانہ میں شعر و اَدب عروج پر تھا، شعراء کی فصاحت و بلاغت دُنیا میں رواج پا چکی تھی اور ہر شخص عرب شعراء کے کمال کا معترف تھا اِس لیے یہ پروپیگنڈا کردیا کہ فصیح و بلیغ کلا م سنانا کون سی بڑی بات ہے ؟ یہ تو ہمارے شعراء بھی سناتے ہیں لہٰذا یہ بھی کوئی شاعر ہی ہوگا اور یہ معجزات تو کوئی جا دُو گری معلوم ہوتی ہے، اُس معاشرے میں جا دُوگری اور شاعری کوئی بڑی بات نہیں تھی، وہاں آسمانی شیطان، ملائکہ کے خلاف پرو پیگنڈا کر رہے تھے اوریہاں زمینی شیطان،جنابِ رسول اللہ ۖ کے خلاف پرو پیگنڈا کر رہے تھے ،اللہ تعالیٰ نے اِس پروپیگنڈے کو بھی رد کرتے ہوئے فرمایا : ( اِنَّہ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ ، وَّمَا ھُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ، قَلِیْلاً مَّا تُؤْمِنُوْنَ ، وَ لَا بِقَوْلِ کَاھِنٍ ط قَلِیْلاً مَّا تَذَکَّرُوْنَ ، تَنْزِیْل مِّنْ رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ۔)( الحاقة : ٤٠ـ٤٣)