ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2014 |
اكستان |
|
اَساتذہ نے پولیس والوں سے آنے کی وجہ پوچھی تو وہ کوئی معقول وجہ نہیں بتا سکے اور نہ ہی کسی مطلوب کا نام ،بس یہ کہا کہ ڈاکو کا تعاقب کرتے ہوئے آگئے !! ! خلاصہ یہ کہ وہ اپنی اِس غیرقانونی حرکت پر پریشان ہو کر بدحواسی میں اِس طرح فرار ہوئے کہ ایک گاڑی کا رُخ لاہور کی طرف تو دُوسری گاڑی کا رُخ رائیونڈ کی طرف اور تیسری گاڑی سڑک کے بیچ گرین بیلٹ پر چڑھ کر اِس طرح پھنس گئی کہ نہ آگے جا سکتی تھی اور نہ پیچھے۔ بہر حال اللہ کی مدد شاملِ حال رہی ورنہ تو حالات خراب کرنے میں پولیس کی غیر قانونی کارروائی نے کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ اللہ بھلا کرے اَساتذہ کا جنہوں نے راقم کو واقعہ کی کانوں کان خبر بھی نہ ہونے دی اور ہمیشہ کی طرح برد باری سے کام لیتے ہوئے طلباء کے جذبات کو ٹھنڈا کیااور اُن کو سمجھایا کہ آپ کے ساتھ جو ظلم ہوا ہے اُس کے خلاف قانونی اور پر اَمن اِحتجاج آپ کا حق ہے اور ہم آپ کے ساتھ ہیں لہٰذا طلباء نے رائیونڈ روڈ پر دَھرنا دے دیا اور مطالبہ کیا کہ اِس غیر قانونی کار روائی کرنے والے اَفسر کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ دھرنے کے کچھ دیر بعد تھانہ رائیونڈ کے ایس ایچ او نے موقع پر آکر حالات کا جائزہ لیتے ہوئے بتلایا کہ مقامی تھانہ کے علم میں لائے بغیر یہ کار روائی کی گئی ہے جوکہ غیر قانونی چیز ہے پولیس اَفسر نے یقین دہانی کرائی کہ آپ دھرنا ختم کردیں ہم ایک گھنٹے کے اَندر اُس اَفسر کے خلاف ایف آئی آر کاٹ کر آپ کو پہنچادیں گے ،موقع پر موجود اَساتذہ کرام نے کہا کہ اگر آپ نے وعدہ کے مطابق ایف آئی آر نہ کاٹی توہم ایک گھنٹہ بعد پھر دھرنا دے دیں گے تقریبًا دو گھنٹے گزرنے پر بھی ایف آئی آر نہ کاٹی گئی توطلباء نے پھر سڑک پر دھرنا دے دیا، دو گھنٹے گزرنے پر اعلیٰ حکام جامعہ مدنیہ جدید آئے طویل گفتگو کے بعد اُنہوں نے ایف آئی آر کاٹی تب جا کر پر اَمن اِحتجاج پایہ تکمیل کوپہنچا اور اللہ تعالیٰ نے کسی بڑے ناخوشگوار حادثہ سے حفاظت فرمائی ۔اللہ تعالیٰ آئندہ بھی اہلِ باطل کے شرور و فتن سے اہلِ حق کے مدارس کی حفاظت فرمائے۔