ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2014 |
اكستان |
|
جامعہ مدنیہ جدید کے صدر دَروازہ پر مامور حارث کے بیان کے مطابق وہ اور اُس کا ایک عزیز جو جامعہ میں ہی زیر تعلیم ہے صدر دَروازہ سے متصل اپنے کمرے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ ہماری لاعلمی میں ایلیٹ فورس کے اہلکار دروازہ اور دیوار پھلانگ کر اَچانک ہمارے سروں پر آکھڑے ہوئے اور اپنی بندوقوں کو لوڈ کر کے اُن کا رُخ ہمارے طرف کردیا اور اُن کے اَفسر نے ہمیں ہراساں کرنے کے بعد غلیظ گالیاں بکنا شروع کردیں۔ ہم نے کہا کیا بات ہے ؟ آپ لوگ کیوں آئے ہیں ؟ مگر کوئی معقول وجہ بتلانے کے بجائے ہم سے ہاتھاپائی شروع کردی وہ پندرہ بیس ہم صرف دو اَفراد اپنی سی مدافعت کرتے رہے۔ اَفسر چیختے ہوئے بولا اِن کو اُٹھا کر گاڑی میں ڈالو، اِتنے میں میرا ساتھی اُن کے نرغے سے نکل بھاگنے میں کامیاب ہوگیا ،مسلح پولیس والے نے اُس کا تعاقب کیا گولی چلانے کی دھمکی بھی دی مگر طالب ِ علم آگے نکل گیا اورپولیس والا پیچھے دیکھتے کا دیکھتا رہ گیا اور اپنے اَفسر سے چلّا کر بولا ''کام خراب ہوگیا'' اِتنے میں طالب علم نے بلند آواز سے طلباء کو جگاتے ہوئے صدر دروازے پر فوری پہنچنے کو کہا اِس سے قبل جامعہ کے عقبی دروازے سے اُن کی ایک گاڑی بلا اِجازت اَندر آچکی تھی، ایک آدمی کو اُٹھا کر زبردستی گاڑی میں ڈال لیا اِتنے میں طلباء بھی مدد کے لیے دروازے کی طرف دوڑ پڑے، تکبیر کی گونج نے اہلکاروں کو حواس باختہ کردیا کچھ نے ڈر کر دوڑیں لگائیں اور آہنی پھاٹک اور دیواروں کو پھلانگ کر باہر کود گئے جو اَندررہ گئے اُنہوں نے طلباء کی طرف بندوقیں تان کر آواز لگائی کہ ہم پولیس والے ہیں گولی چلا سکتے ہیں مگرپولیس کی اِس غیر قانونی حرکت، بِلا جواز تشدد، دہشت گردی اور بِلا کسی جرم کے طالب علم کو اِغواء کر نے کی کوشش نے حالات خراب کردیے اور طلباء میں اِشتعال پیدا ہوگیا ۔ ایس پی نے اِسی حارث سے جس کو مسلسل گالیاں بک رہا تھا اپنی جان کی اَمان طلب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے آدمیوں کو روکو مگر وہ پولیس کے ظالمانہ ٹھڈوں اور تشدد سے دِ ل برداشتہ اُن کی کیا مدد کرتا اَب ایس پی ایک ملزم کی طرح اُسی چوکیدار کی تپائی پر بیٹھا ہوا تھا کہ جامعہ کے اَساتذہ موقع پر پہنچ گئے اور کسی نہ کسی طرح حالات پر قابو پالیا۔