ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2013 |
¾اكستان Ù |
|
بعد جناب سیّد اَحمد شاہ صاحب (مجاز شیخ الاسلام )نے حضرت سے سوال کیا حضرت ! اَب ایسا کیوں نہیں ہوتا تو حضرت نے اِرشاد فرمایا : اَب ایسی رُوحانیت والے حضرات پیدا نہیں ہوتے۔ (١٣) مولانا ظل الرحمن صاحب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت کے یہاں جالندھر سے مولانا حیات اللہ صاحب تشریف لائے، جب دَستر خوان پر شریک ِ طعام ہوئے تو جلدی سے کھانا کھا کر فارغ ہوگئے ۔حضرت نے فرمایا کہ دیکھیے میں ہندوستانی ہو کر بھی آپ سے زیادہ دیر تک کھانا کھا رہا ہوں اَور آپ تو پنجابی ہیں! مولانا حیات اللہ صاحب نے فرمایا حضرت ! اَحادیث میں کم کھانے کی فضیلت آئی ہے۔ تب حضرت نے اِرشاد فرمایا : ایک صاحب نے کسی بزرگ سے ملاقات کی غرض سے گئے جب اُن کے مکان پر پہنچے تو دیکھا کہ بہت سے دُنبے بندھے ہوئے ہیں، اُس نو وَارِد مسافر نے دَریافت کیا کہ یہ دُنبے کیوں بندھے ہوئے ہیں ؟ جواب مِلا پیر صاحب اِن کو کھاتے ہیں اَور ایک دُنبے تنہا کھالیتے ہیں۔ اِس مسافر کو بہت اَفسوس ہوا کہ خواہ مخواہ اِس کھاؤ پیر کے لیے اِتنی دُور دَراز سے مشقتیں بر داشت کیں، بہرحال جوں توں شام کی جب دَسترخوان بچھا تو سالم دُنبہ پیر صاحب نے کھا لیا تب تو مسافر کی حیرت کی اِنتہار نہ رہی لیکن جب رات ہوئی تو بزرگ صاحب نے عشاء کی نمازکے بعد جو تہجد کی نمازکے لیے نیت باندھی تو کھڑے کھڑے صبح کردی، اِس نو وَارِد مسافر کو اَپنی بدگمانی پر ندامت ہوئی اَور توبہ کی۔ (١٤) درسِ بخاری شریف میں حضرت نے اِرشاد فرمایا ایک مرتبہ اِمام شافعی اِمام اَحمد بن حنبل کے یہاں مہمان ہوئے (اِمام اَحمد بن حنبل اِمام شافعی کے شاگرد ہیں) جب دَستر خوان بچھا تو خوب شکم سیر ہو کر کھانا کھایا ۔اِمام اَحمد بن حنبل کی چھوٹی صاحبزادی کو بہت حیرت ہوئی لیکن باپ کے خوف سے خاموش رہی جب رات ہوئی تو صاحبزادی نے لوٹے میں پانی بھر کر مصلے کے قریب رکھ دیا لیکن اِمام شافعی رات کو تہجد کے لیے نہ اُٹھے اَور صبح کی نماز کے لیے بغیر وضو کے چلے گئے (اُن دِنوں مساجد میں وضو کا اِنتظام نہ ہوتا تھا) اَب تو صاحبزادی سے نہ رہا گیا۔ والد محترم سے سوال کر لیا کہ مجھے کچھ