ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2013 |
¾اكستان Ù |
|
سُر مہ میں مِلا کر آنکھوں میں لگایا کرتے تھے اَور مدینہ منورہ کی کھجوروں کی گٹھلیوں کو ہاون دستہ میں کُٹوا کر رکھ لیا کرتے تھے جس کو ناشتے میں تناول فرمایا کرتے تھے۔ حضرت نے اِس کے بعد اِرشاد فرمایا : ایک دفعہ میں نے حضرت گنگوہی رحمة اللہ علیہ کی خدمت میںایک رُومال پیش کیا تو فورًا حضرت نے سر اَور آنکھوں سے لگا لیا۔ میں نے عرض کیا حضرت !یہ رُومال تو ہندوستان سے بن کر وہاں جاتا ہے، اِرشاد فرمایا : اِس رُومال کو دیارِ حبیب ۖ کی ہوا لگی ہے اِس وجہ سے محترم ہے ۔اِس کے بعد حضرت نے اِرشاد فرمایا یہ وہ حضرات ہیں جن کو بریلوی حضرات کافر کہتے ہیں ۔ (١١) ایک مرتبہ درسِ بخاری شریف میں ایک طالب علم نے سوال کیا، کیا وجہ ہے کہ مولانا فضل ِرحمن صاحب گنج مراد آبادی حقہ پیتے تھے حالانکہ حقہ پینا مکروہ ہے ۔حضرت نے جواب میں اِرشاد فرمایا کہ حضرت مولانا فضل ِرحمن صاحب گنج مراد آبادی آپ کی طرح حقہ نہیں پیتے تھے کہ آپ لوگوں کا حقہ مہینوں تازہ نہیں کیا جاتا ہے بلکہ حُق چیوں کا کہنا ہے کہ جتنا پانی سڑا ہوگا تمباکو لے دَار آئے گا، آپ لوگ بدبو میں لَے تلاش کرتے ہیں اَور پاخانہ میں بیڑیاں پیتے ہیں۔ مولانا فضل ِرحمن صاحب کا حقہ ہر چلم پر تازہ بھی ہوتا تھا اَور بدلا بھی جاتا تھا اَور تمباکو بھی لکھنؤ کا خوشبودار خمیرہ ہوتا تھا اُس زمانے میں تین پیسے میں حقہ، نیچہ، چِلم تینوں چیزیں مِل جاتی تھیں اِسی وجہ سے مولانا فضل ِرحمن صاحب کے مریدین ہدایا میں یہی چیزیں لاتے تھے۔ (١٢) ایک مرتبہ اِرشاد فرمایا جوا لاپور راجہ کے یہاں اَولاد پیدا نہیں ہوتی تھی راجہ بوڑھا ہو چلا تھا لوگوں نے راجہ کو خبر دی کہ فلاں جگہ ایک فقیر رہتا ہے اُس سے دُعا کرائی جائے ،راجہ فقیر کے پاس گیا اَور جا کر اَولاد کے لیے دُعا چاہی ۔فقیر نے کہا اَگر تمہارے یہاں لڑکا پیدا ہو تو پہلا لڑکا فقیر کو دو گے راجہ نے وعدہ کیا چنانچہ کچھ عرصہ کے بعد راجہ کے یہاں لڑکا پیدا ہوا فقیر حسب ِ وعدہ راجہ کے مکان پر گیا اَور لڑکا طلب کیا ۔راجہ نے اَولًا تو بہانہ کرنا چاہا تب فقیر نے کہا دیکھو ! جس نے تم کو لڑکا دیا ہے وہ لینا بھی جانتا ہے ۔راجہ نے ڈر کی وجہ سے لڑکا فقیر کے سپرد کردیا، فقیر نے لڑکے کو اِسلامی تعلیم دی چنانچہ اُس لڑکے سے مسلمان اَولاد پیدا ہوئی اَور راجہ کے دُوسرے لڑکوں سے ہندو اَولاد پیدا ہوئی ۔ اِس کے