ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2013 |
اكستان |
|
یہ چار اُمور صرف اللہ کی ذات میں موجود ہیں، اِنسان خواہ فر دہو یا جماعت اِن سے خالی ہے لہٰذا اِنسان کو قانون اَور ضابطہ ٔحیات کی تشکیل کا حق نہیں۔ پہلی چیز یعنی علمِ تام وہ اِنسان کو حاصل نہیں۔ اِسمبلیوں اَور پارلیمنٹوں میں اِنسانی قانون کی وقتاً فوقتاً تبدیلی اِس اَمر کی دلیل ہے کہ اِنسان کے علم اَور اُس کے قانون میں نقص موجود ہے پھر ایک مُلک کا قانون دُوسرے مُلک سے اَور ایک پارلیمنٹ کا قانون دُوسری پارلیمنٹ سے مختلف ہے جو اِنسانی علم کے تردّد و تشکک کی دلیل ہے۔ لیکن خالقِ کائنات کا علم مکمل ہے پھر خدا اِنسانی زندگی کے ہر دَور کے خیر و شر کو جانتا ہے خواہ دُنیوی زندگی سے متعلق ہو یا برزخ و قبر سے یا آخرت سے لیکن اِنسان کو اگر کسی حد تک علم ہے تو صرف دُنیا کا علم اَور وہ بھی حال کا علم نہ کہ مستقبل کے اُمور کا، باقی برزخ و آخرت کے اُمور ! وہ تو اِنسان کے عقل و حواس کے ماوراء اَور غائب ہیں، لہٰذا اِنسانی پارلیمنٹ اگر نفع سمجھ کر سود و قمار کے جواز کا قانون پاس کردے تو اُس کی نظر سے سود و قمار کے مستقبل کے مہلک اَثرات و نتائج غائب ہوتے ہیں اَور قبر و آخرت کی جو مضرت اِن دونوں چیزوں میں ہوگی وہ بھی اُس کے دائرۂ عقل سے خارج ہے لیکن خالق ِکائنات جو اَصل سرچشمہ قانون ہے، صرف اُس کا علمِ تام اِن سب پر حاوی ہے اَور اِنسان کے حقیقی نفع و نقصان کووہی جانتا ہے اَور سود و قمار کے مستقبل اَور برزخ و آخرت کے تباہ کن اَثرات بھی جانتا ہے لہٰذا اُس کا قانون صحیح علم پر مبنی ہے۔ فہم ِ اِنسانی میں عادت و خواہش کی دَخل اَندازی : پھر بڑی بات یہ ہے کہ اِنسانی عقل و فہم میں زیادہ خواہش و عادت کی دَخل اَندازی ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ اِنسانی پار لیمنٹوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ممبران کی اکثریت ایسے قوانین بنا ڈالتی ہے جن کی بُرائی میں کوئی شبہ نہیں جیسے اِنگلستان اَور کینیڈا کی پارلیمنٹ نے جوازِ لواطت کا قانون پاس کیا، اِس کے علاوہ اِنسان ذاتی مفاد اَور قومی مفاد کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے لہٰذا وہ عمومی مفاد و دیگر اَقوام کے ساتھ