ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2013 |
¾اكستان Ù |
|
شور ہونا شروع ہو گیا محلہ کے آدمی جمع ہو ئے شور کی آواز سن کر مرزا صاحب مسجد سے تشریف لے آئے ولا یتی مرید کو سمجھا بجھا کر لے گئے۔ (٧) آپ نے اِرشاد فرمایا کہ ایک مرتبہ مرزاصاحب کے پاس دہلی کے بادشاہ سلامت تشریف لائے تھوڑی دیر بیٹھے، بادشاہ سلامت کو پیاس لگی اَور پانی مانگا ۔مرزا صاحب کے پاس اُس وقت کوئی خادم نہ تھا، فرمایا گھڑے میں سے پانی لے کر پی لیجئے ،بادشاہ نے پانی پیا اَور کٹورہ ترچھا رکھ کر ڈھک دیا تھوڑی دیر تک تو مرزا صاحب ترچھی نگاہوں سے دیکھتے رہے پھر خود اُٹھ کر کٹورے کو سیدھا کر کے ڈھکا اَور بادشاہ صاحب سے فرمایا : آپ حکومت ہی کیا کرتے ہوں گے جبکہ آپ کو گھڑا ہی ڈھکنا نہیں آتا۔ (٨) درسِ بخاری شریف میں اِرشاد فرمایا کہ ایک دفعہ ایک عورت مرزا صاحب کی خدمت میں ایک رضائی لائی اَور ہدیہ کی، رات کو مرزا صاحب اُسی رضائی کو اَوڑھ کرسوئے ،صبح کو اُٹھ کر فرمایا آج رات بالکل نیند نہیں آئی اِس وجہ سے کہ رضائی میں نگندے سیدھے نہ تھے بلکہ بے ترتیب پڑے ہوئے تھے۔ (٩) درسِ بخاری شریف میں اِرشاد فرمایا کہ سب لوگ بزرگی کے قائل آسانی سے ہوجاتے ہیں مگر بیوی نہیں ہوتی۔ ایک بزرگ صاحب نے ایک دِن یہ کیا کہ اَپنے مکان کے اُوپر سے اُڑتے ہوئے گزرے اَور شام کوجب گھر پہنچے توبیوی صاحبہ نے کہا کہ ایک آپ بزرگ بنتے ہیں اَور ایک بزرگ صاحب کو آج ہم نے دیکھا ہے کہ اُڑتے ہوئے جا رہے تھے ۔میاںصاحب نے غنیمت سمجھا اَور فرمایا کہ وہ میں ہی تھا ،بیوی صاحبہ نے فورًا ہی جواب دیا : اچھا جب ہی تِرچھے اُڑرہے تھے۔ (١٠) بخاری شریف کے ختم کے موقع پر اِرشاد فرمایا کہ ایک مرتبہ ایک بارات میں باجا بج رہا تھا اُس باجے کی آواز سن کر حضرت گنگوہی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ،کسی نے رونے کا سبب دَریافت کیا تو اِرشاد فرمایا میرے کانوں میں سنت کے خلاف باجے کی آواز آگئی، اِس کے بعد حضرت نے اِرشاد فرمایا : حضرت گنگوہی رحمة اللہ علیہ حضور علیہ الصلٰوة والسلام کے مزارِ مقدس کے خاکِ پاک