ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2013 |
¾اكستان Ù |
|
خواجہ صاحب نے فرمایا : بابا ! بیت اللہ کی زیارت کے لیے تو جاتے ہو، صاحب ِ بیت کی زیارت کیوں نہیں کرلیتے ! عرض کیا کہ یہ کس طرح ممکن ہے ؟ خواجہ صاحب نے فرمایا چند دِن یہاں قیام کیجیے چنانچہ حضرت مجدد صاحب ٹھہر گئے۔ خواجہ صاحب نے اُن کو بیعت کیا اَور چالیس دِن کے بعد خرقۂ خلافت عنایت فرما کر رُخصت کردیا۔ (٥) ایک مجلس میں حضرت نے اِرشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق جیسا گمان رکھا جاتا ہے اللہ تعالیٰ بندے کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہے۔ اَور اِرشاد فرمایا کہ کسی بزرگ نے حالت ِ جذب اَور شوق میں عہد کیا کہ جب تک اللہ تعالیٰ اَپنے ہاتھ سے نہ کھلائے گا نہ کھاؤں گا چنانچہ جب دو تین دِن بغیر کھائے ہوئے ہو گئے تو لوگوں کا ہجوم زیادہ ہوا اَور لوگوں نے اِصرار کرناشروع کیا آخر وہ بزرگ تنگ آکر چل دیے۔ راستہ میں ایک دریا کو پار کرنا تھا جب بیچ دریا میں پہنچے تو دیکھا کہ پانی کی سطح پر دو روٹیاں بہتی آرہی ہیں، یہ بزرگ صاحب سمجھ گئے کہ یہی اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے اِس میں کسی کے فعل کو کوئی دَخل نہیں ہے چنانچہ فورًا ہی ہاتھ بڑھا کر روٹیاں کھانا شروع کردیں ،فورًا ہی ہاتف ِ غیبی نے ندا دی کمبخت ! اگرتھوڑی دیر صبر کرتا تو پانی سے ایک ہاتھ نمودار ہوتا جو تجھے کھانا کھلاتا۔ (٦) درسِ بخاری شریف میں اِرشاد فرمایا : مرزا محمد مظہر جانِ جاناں نہایت نازک مزاج بزرگ تھے اللہ تعالیٰ نے اِن کو اِلہام فرمایا کہ اگر تم ہمارا تقرب چاہتے ہو تو فلاں محلہ میں فلاں عورت رہتی ہے اُس سے اَپنا نکاح کرو ہم نوازیں گے چنانچہ مرزا صاحب نے فورًا ہی اُس عورت سے نکاح کرلیا، عورت نہایت تند خو اَور تیز مزاج تھی۔ جب مرزا صاحب گھر جاتے تو پیچھا لینا شروع کردیتی اَور ایک سانس میں بہتَّر سناتی، مرزا صاحب ''ٹک ٹک دِیدم، دَم نہ کشیدم ''کا منظر بنے رہتے۔ مرزا صاحب نے ایک مرید کی ڈیوٹی لگادی کہ روزانہ صبح کو دولت کدہ پر جا کر بیوی صاحبہ کی مزاج پرسی کرے اَور مرزا صاحب کا سلام پیش کرے۔ ایک دِن اِتفاق سے ایک ولایتی طالب علم پہنچ گیا اَور حسب ِدستور مزاج پرسی کی، بیوی صاحبہ نے گالیاں دینا شروع کیں ولایتی مرید نے فورًا ہی ڈانٹ پلائی کہ خبردار ! اگر زبان نکالی تو گردن اُڑا دُوں گا پھر کیا تھا بیوی صاحبہ آگ بگولہ ہوگئیں اَور