ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2013 |
¾اكستان Ù |
|
نہ تھا جس کی وجہ سے خادمہ پریشان تھی اَور زیادتی ٔپریشانی کے باعث کبھی اَندر جاتی اَور کبھی باہر آتی، اِس حالت کو سامنے دُکان پر بیٹھا ایک نانبائی بھی دیکھ رہا تھا چنانچہ قیاس سے دَریافت کیا کہ پریشانی کھانا نہ ہونے کی وجہ سے ہے فورًا ہی ایک خوان میں کھانا لگا کر کھانا خواجہ صاحب کے گھر بھیج دیا جس کو گھر والوں اَور مہمانوں نے شکم سیر ہو کر کھایا، شام کو جب خواجہ صاحب تشریف لائے تو تمام حالات اَور نانبائی کی خدمت معلوم ہوئی چنانچہ خواجہ صاحب نے نان بائی کو پاس بلایا اَور فرمایا کہ مانگ کیا مانگتا ہے ؟ نانبائی نے عرض کیا پہلے آپ وعدہ کریں کہ جو کچھ میں مانگوں گا وہ آپ عنایت فرمائیں گے ۔ خواجہ صاحبنے وعدہ کیا جو کچھ مانگے گا وہی دیا جائے گا۔ نانبائی نے عرض کیا : تو اَچھا مجھے آپ اَپنے جیسا بنا لیں۔ خواجہ صاحب نے فرمایا : یہ سوال تو نے ٹھیک نہیں کیا ،یہ چیز تیرے مناسب نہیں ہے ۔ نانبائی نے عرض کیا : کچھ بھی ہو آپ مجھے اَپنے جیسا بنالیں۔ بہر حال خواجہ صاحب نانبائی کو اَندر لے گئے اَور توجہ ڈالی، تھوڑی دیر کے بعد لوگوں نے دیکھا کہ حجرے سے ایک ہی شکل کے دوصاحب (خواجہ باقی باللہ) نکل رہے ہیں مگر اَصلی اَور نقلی میں یہ فرق تھا کہ نانبائی مدہوش تھا اَور خواجہ صاحب باہوش تھے۔ تیسرے دِن نانبائی کا اِنتقال ہو گیا۔ اِس کے بعد حضرت نے اِرشاد فرمایا اِس کا نام'' توجہ'' ہے اَور فرمایا کام کرو محض بزرگوں کی توجہ پر تکیہ لگا کر نہ بیٹھو، توجہ سے جو چیز حاصل ہوتی ہے وہ اَفضل نہیں ہوتی، فضیلت محنت اَور مشقت سے حاصل کرنے میں ہے۔ (٤) درسِ بخاری شریف میں اِرشاد فرمایا : حضرت مجدد الف ثانی حضرت باقی باللہ صاحب کے مرید اَور خلیفہ ہیں، ایک مرتبہ حضرت مجدد صاحب حج کے اِرادے سے چلے، خیال آیا کہ چلو دہلی میں بزرگوں سے ملاقات کرتے چلیں چنانچہ جب دہلی کے تمام بزرگوں سے ملاقات کر چکے تو آخر میں خواجہ صاحب کے پاس گئے اَور عرض کیا کہ حضرت! بیت اللہ کی زیارت کے لیے جارہا ہوں دُعا فرمائیے۔