ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2013 |
اكستان |
|
دیا کہ پھر آنا، اُس نے کہا یا رسول اللہ ۖ یہ فرمائیے اگر میں آؤں اَور آپ ۖ کو نہ پاؤں یعنی آپ کی وفات ہوجائے (تو کس کے پاس جاؤں)، آپ ۖ نے فرمایا پھر اَبو بکر کے پاس جانا۔ '' یہ حدیث اَور نیز اِس سے اُوپر کی حدیث حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پر روشن دلیل ہے۔ دُوسری حدیث میں جومضمون ہے اُس کو رسولِ خدا ۖ نے متعدد موقعوں پر اِرشادفرمایا ہے چنانچہ مستدرک ِحاکم میں حضرت اَنس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ اُن کوقبیلہ بنی مصطلق کے لوگوں نے رسولِ خدا ۖ کے پاس بھیجاکہ آپ ۖ کے بعد ہم اَپنی زکوة کس کو دیں ؟ آپ ۖ نے فرمایا اَبوبکرکو پھر اُن کے بعد حضرت عمر اَور اُن کے بعد حضرت عثمان کانام آپ ۖ نے بتایا رضی اللہ عنہم۔ اَور معجم اِسماعیل میں سہل بن اَبی حثمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اَور معجم طبرانی میں حضرت اَبو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسولِ خدا ۖ نے ایک اعرابی سے کچھ اُونٹ مول لیے اَور قیمت کا وعدہ فرمایا۔ اُس نے پوچھا کہ آپ ۖ کے بعد کون اَدا کرے گا۔ آپ ۖ نے فرمایا اَبو بکر اَور اُن کے بعد حضرت عمر اَور اُن کے بعد حضرت عثمان کا نام بتایا۔ اَور ریاض النظرہ میں حضرت اَبو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک یہودی سے آپ ۖ نے کچھ قرض لیا، اُس نے پوچھا اگر میں آؤں اَور آپ نہ ملیں تو کس کے پاس جاؤں ؟ آپ ۖ نے فرمایا :اَبو بکر کے پاس جانا اَور اُن کے بعد حضرت عمر کا نام بتایا۔ (٧) عَنْ عَلِیِّ ابْنِ اَبِیْ طَالِبٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ۖ قَالَ اَبُوْبَکْرٍ وَ عُمَرُ سَیِّدَا کُھُوْلِ اَھْلِ الْجَنَّةِ مَاخَلَا النَّبِیِّیْنَ وَالْمُرْسَلِیْنَ۔ (ترمذی) '' حضرت علی بن اَبی طالب سے روایت ہے کہ رسولِ خدا ۖ نے فرمایا اَبو بکر و عمر جنت کے بڑے عمر والوں کے سردار ہیں ،سوائے اَنبیائِ مرسلین کے۔ '' یہ حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے متعدد سندوں کے ساتھ منقول ہے۔ ترمذی اَور اِبن ماجہ میں بر وایت شعبی مروی ہے اَور زوائد ِمسند میںبر وایت حضرت حسن اَور پھر ترمذی میں بر وایت حضرت