ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2013 |
اكستان |
|
زین العابدین۔ حضرت علی کے علاوہ دُوسرے صحابہ بھی اِس حدیث کے ناقل ہیں چنانچہ ترمذی میں حضرت اَبو حجیفہ سے بھی یہ حدیث منقول ہے۔ اِس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جنت میں جو لوگ بڑی عمر کے ہوں گے،حضرت اَبوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ اُن کے سردار ہوں گے اِس لیے کہ جنت میں کوئی بڑی عمر کا نہ ہوگا سب نوجوان ہوں گے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس وقت یہ حدیث اِرشاد فرمائی گئی اُس وقت جو مستحقین ِ جنت بڑی عمر کے تھے اُن کے سردار ہوں گے۔ ایسا ہی مطلب اُس حدیث کا بھی ہے کہ حضرات ِ حسنین جوانانِ جنت کے سردار ہوں گے۔ (٨) عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ قَالَ خَیْرُ الْاُمَّةِ بَعْدَ نَبِیِّھَا اَبُوْبَکْرٍ ثُمَّ عُمَرُ۔ (بخاری شریف) ''حضرت علی بن اَبی طالب سے روایت ہے کہ اُنہوں نے فرما یا کہ اِس اُمت میں نبی کے بعد سب سے بہتر اَبو بکر ہیں پھر عمر ہیں۔'' یہ قول خود حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا ہے جس کو اُن سے اَسّی آدمیوں نے روایت کیا ہے (دیکھیے اِزالة الخفاء و منہاج السنة) اَور ظاہر ہے کہ کسی کا اَفضل ِ اُمت ہونا کوئی عقلی بات نہیں ہے جو اَپنی رائے سے کہی جا سکے لہٰذا ضروری ہے کہ اُنہوں نے رسولِ خدا ۖ سے اِس کو سنا ہو جیساکہ اُصول ِ حدیث میں تمام صحابہ کرام کے متعلق طے ہو چکا ہے۔ (٩) عَنِ ابْنِ عُمَرَ کُنَّا نَقُوْلُ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ۖ حَیّ اَفْضَلُ اُمَّةِ النَّبِیِّ ۖ بَعْدَہ اَبُوْ بَکْرٍ ثُمَّ عُمَرَ ثُمَّ عُثْمَانَ ۔(ابوداود شریف) '' حضرت اِبن عمر کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ۖ کی حیات میں کہا کرتے تھے کہ آنحضرت ۖ کی اُمت میں آپ کے بعد سب سے اَفضل اَبو بکر ہیں پھر عمر پھر عثمان ہیں۔''