ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2012 |
¾اكستان Ù |
|
ایسا آدمی بھی اِسلامی حدودِ مملکت میں نہیں رہ سکتا وہ یا یہاں سے چلا جائے گا دارُالحرب میں کسی سیکولر اِسٹیٹ میں اَور یا اُس کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ اپنے نظریات کی اِصلاح کر ے ورنہ اُسے کافر شمار کیا جائے گا تو جن کافروں سے جزیہ لیا جاتا ہے یہ اُن میں بھی داخل نہیں اَور اُس کا اِیمان اَور اِسلام بھی خطرے سے خالی نہیں رہا کیونکہ یہ کلمہ بھی پڑھتا ہے یہ نماز بھی پڑھتا ہے اِس سے لوگوں کو مغالطہ بڑا ہوسکتا ہے ، اِس لیے اگر وہ کلمہ پڑھے گا تو اُس کے کلمے کا اِعتبار نہیں ہوگا اُس سے کہا جائے گا کہ تو اَپنے نظریات سے توبہ کر اَور مسلمان ہو ۔ مسلمان ہونے کے لیے اُس کے واسطے اَور جملے ہیں وہ یہ کہے گا کہ اَلتَّبَرِّیْ عَنْ کُلِّ دِیْنٍ سِوَی الْاِسْلَامِ اِسلام کے سوا باقی جو بھی کوئی مذہب ہے میں اُس سے اَلگ ہوں اَب علیحد گی مانتا ہوں میں مسلمان ہوتا ہوں یہ کلمہ پڑھتا ہوں جب یہ کہے گا تب مانا جائے گا۔ اِن کا صرف کلمہ پڑھنا معتبر نہیں ، وجہ ؟ اِس کے قریب قریب یہ قادیانی ہیں ہمارے یہاں ،کلمہ یہ بھی پڑھتے ہیں نماز بھی پڑھتے ہیں قرآنِ پاک بھی پڑھتے ہیں رسول اللہ ۖ کو بھی مانتے ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ'' مرزا'' کو بھی مانتے ہیں جو مدعی نبوت تھا تو جب وہ لَااِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدرَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھتے ہیں تو اُن کے دِل میں ''محمد'' سے مراد ہوتی ہے خود'' مرزا غلام اَحمد ''کیونکہ اُس نے کہیں کہا ہے کہ '' منم محمد و احمد'' ١ میں ہوں محمد بھی ،میں ہوں اَحمد بھی، کہیں کہا ہے میں عیسیٰ ہوںوغیرہ ۔تو جس وقت وہ قادیانی کلمہ پڑھتا ہوگا لَااِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدرَّسُوْلُ اللّٰہِ یا پڑھتا ہوگا اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً رَّسُوْلُ اللّٰہِ تو بھی اِعتبار نہیں کیا جا سکتا کہ'' محمد'' سے مراد کیا لے رہا ہے کہ حضرت محمد ۖ ١ تریاق القلوب میں مرزا غلام اَحمد قادیانی اپنے بارے میں لکھتا ہے : منم مسیح زماں و منم کلیم خدا منم محمد و اَحمد کہ مجتبٰی باشد میں مسیح زماں ہوں میں کلیم خدا ہوں میں محمد اَور اَحمد مجتبٰی ہوں ( تریاق القلوب ص ٦ ،رُوحانی خزائن ج ١٥ ص ١٣٤)