Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2012

¾اكستان Ù

12 - 65
ایسا آدمی بھی اِسلامی حدودِ مملکت میں نہیں رہ سکتا وہ یا یہاں سے چلا جائے گا دارُالحرب میں کسی سیکولر اِسٹیٹ میں اَور یا اُس کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ اپنے نظریات کی اِصلاح کر ے ورنہ اُسے کافر شمار کیا جائے گا تو جن کافروں سے جزیہ لیا جاتا ہے یہ اُن میں بھی داخل نہیں اَور اُس کا اِیمان اَور اِسلام بھی خطرے سے خالی نہیں رہا کیونکہ یہ کلمہ بھی پڑھتا ہے یہ نماز بھی پڑھتا ہے اِس سے لوگوں کو مغالطہ بڑا ہوسکتا ہے ، اِس لیے اگر وہ کلمہ پڑھے گا تو اُس کے کلمے کا اِعتبار نہیں ہوگا اُس سے کہا جائے گا کہ تو اَپنے نظریات سے توبہ کر اَور مسلمان ہو ۔ مسلمان ہونے کے لیے اُس کے واسطے اَور جملے ہیں وہ یہ کہے گا کہ  اَلتَّبَرِّیْ عَنْ کُلِّ دِیْنٍ سِوَی الْاِسْلَامِ  اِسلام کے سوا باقی جو بھی کوئی مذہب ہے میں اُس سے اَلگ ہوں اَب علیحد گی مانتا ہوں میں مسلمان ہوتا ہوں یہ کلمہ پڑھتا ہوں جب یہ کہے گا تب مانا جائے گا۔ 
اِن کا صرف کلمہ پڑھنا معتبر نہیں ، وجہ  ؟
اِس کے قریب قریب یہ قادیانی ہیں ہمارے یہاں ،کلمہ یہ بھی پڑھتے ہیں نماز بھی پڑھتے ہیں قرآنِ پاک بھی پڑھتے ہیں رسول اللہ  ۖ  کو بھی مانتے ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ'' مرزا'' کو بھی مانتے ہیں جو مدعی نبوت تھا تو جب وہ  لَااِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدرَّسُوْلُ اللّٰہِ  پڑھتے ہیں تو اُن کے دِل میں   ''محمد'' سے مراد ہوتی ہے خود'' مرزا غلام اَحمد ''کیونکہ اُس نے کہیں کہا ہے کہ ''  منم محمد  و  احمد''  ١     میں ہوں محمد بھی ،میں ہوں اَحمد بھی، کہیں کہا ہے میں عیسیٰ ہوںوغیرہ ۔تو جس وقت وہ قادیانی کلمہ پڑھتا ہوگا  لَااِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدرَّسُوْلُ اللّٰہِ   یا پڑھتا ہوگا  اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً رَّسُوْلُ اللّٰہِ  تو بھی اِعتبار نہیں کیا جا سکتا کہ'' محمد'' سے مراد کیا لے رہا ہے کہ حضرت محمد  ۖ    ١  تریاق القلوب میں مرزا غلام اَحمد قادیانی اپنے بارے میں لکھتا ہے  :
منم مسیح زماں و منم کلیم خدا 	 منم محمد و اَحمد کہ مجتبٰی باشد 
میں مسیح زماں ہوں میں کلیم خدا ہوں    میں محمد اَور اَحمد مجتبٰی ہوں
( تریاق القلوب ص ٦ ،رُوحانی خزائن ج ١٥  ص  ١٣٤)
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
3 حرف آغاز 4 1
4 گھر والوں کے تاثرات : 7 3
5 دفعہ نمبر ٢ : جمعیة علماء اِسلام پاکستان 8 3
6 دفعہ نمبر ٣ شرائط رُکنیت : 9 3
7 دفعہ نمبر ٢٧ پرچم : 10 3
8 مرزا کا اِقرار ، میںبرطانیہ کا خود کاشتہ پودا : 13 3
9 اہم سیاسی نکتہ ،گائیڈ لائن : 13 3
10 آپ ۖ کا اِرشاد اَور اُس کی وجہ : 14 3
11 اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہود و عیسائیوں کی خرافات : 14 3
12 نبی علیہ السلام کی تعلیمات ہر طرف پھیل گئیں : 14 3
13 آپ ۖ کے خاتم النبیین ہونے کی دلیلیں ،علم کی برکت سے خیر القرون میں اپنے کو پانا : 15 3
14 ایک عامل کا قادیانیوں سے مباحثہ : 15 3
15 نبی نہیں'' مجدد'' آتے رہیں گے : 16 3
16 مرزا کا بیٹا اِس پر اِیمان نہ لایا : 16 3
17 پاک سرزمین اَور مولانا جالندھری پر مقدمہ ! : 17 3
18 اِمام اعظم کے بارے میں اِمام مالک کی رائے مبارک : 17 3
19 جھوٹے نبی کا گھڑی دیکھنا ،دماغی مریض کی علامات : 17 3
20 دُوسری علامت : 18 19
21 تیسری علامت : 18 3
22 دیو بند میں مسلمانوں کی آباد کاری اَور فروغ 20 1
23 شیخ علاء الدین سہروردی : 21 22
24 شیخ معز الاسلام : 21 22
25 شاہ ولایت : 21 22
26 ایک اَور بزرگ : 22 22
27 شیخ جیا ،صا حب ِخانقاہ : 22 22
28 شیخ اَبو الوفاء عثمانی : 22 22
29 قاضی فضل اللہ شیر : 23 22
30 شیخ اَبو البرکات : 23 22
31 مولانا فرید الدین : 23 22
32 سیّد حسام الدین : 24 22
33 سیّد حسام الدین : 24 22
34 شاہ محمد فرید : 24 22
35 میاں جی نور علی قطب الوقت : 24 22
36 مُلا شہاب الدین کابلی : 24 22
37 سیّد محمد اِبراہیم : 25 22
38 کچھ اَور بزرگ : 29 22
39 شیخ اَحمد دیبنی : 29 22
40 شاہ رَمزالدین : 29 22
41 دیوبند : زوالِ سلطنت ِمغلیہ کے وقت 30 22
42 جہادِ حضرت سیّد اَحمد شہید قدس سرہ کے رُفقائِ دیوبند : 32 22
43 قسط : ٣٠ اَنفَاسِ قدسیہ 40 1
44 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین اَحمدصاحب مدنی کی خصوصیات 40 43
45 وفیات 47 1
46 قسط : ١٦ پردہ کے اَحکام 48 1
47 پردہ کے تینوں دَرجوں میں ضرورت کے مواقع کا اِستثناء : 48 46
48 تینوںدَرجوں کے اِعتبار سے ضرورت کے مواقع کی تفصیل : 49 46
49 ساری بحث کا خلاصہ : 50 46
50 ضرورت کے وقت باہر نکلنے کی ضروری شرطیں : 51 46
51 قسط : ١٢ سیرت خلفائے راشدین 52 1
52 خلیفہ رسول اللہ حضرت اَبوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ 52 51
53 کرامت : 52 51
54 حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کی معیشت : 53 51
55 قسط : ٩ ، آخري سلامی صکوک (SUKUK) : تعارف اَورتحفظات 56 1
56 اِقتصادِ اِسلامی کااِنتظام : 57 55
57 اَخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter