ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2012 |
¾اكستان Ù |
|
رہائی نہ خواہیم اَز دامِ عِشق کہ صد عید قربان اَیامِ عِشق (٦) کئی بار مکہ میں رسول خدا ۖ کو کافروں نے نرغے سے بچایا ۔ ایک بار کا واقعہ ہے کہ کفار ِ قریش صحن ِکعبہ میں بیٹھے ہوئے رسول خدا ۖ کا ذکر کر رہے تھے کہ وہ ہمارے معبودوں کی مذمت کیا کرتے ہیں۔ اِتنے میں رسول خدا ۖ وہاں آگئے سب نے آپکو گھیر لیا اَور چادر آپ کے گلے میں ڈال کر کھینچنا شروع کی۔ کسی نے جا کرحضرت صدیق رضی اللہ عنہ کو خبر کردی کہ اَدْرِکْ صَاحِبَکَ وہ بے تاب ہو کر پہنچے اَور کہنے لگے تمہار ی خرابی ہو اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ وَقَدْ جَآئَکُمْ بِالْبَیِّنَاتِ یعنی کیا تم ایسے شخص کو قتل کیے ڈالتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اَور وہ تمہارے پاس معجزات لے کر آیا ہے، یہ سن کر کافروں نے رسول خدا ۖ کو چھوڑ دیا اَور حضرت صدیق رضی اللہ عنہ پر جھپٹ پڑے، اُس وقت حضرت صدیق رضی اللہ عنہ پر جو گزرا، مبارک ہو، یہ اُنہیں کا حصہ تھا ،بے ہوش ہو گئے اَور کئی دِن تک بے ہوش رہے ، درمیان درمیان تھوڑی دیر کے لیے ہوش آتا تو رسول خدا ۖ کی خیریت دریافت کرتے اَور پھر بے ہوش ہوجاتے، جب کئی دِن کے بعد پوری طرح ہوش آیا تو پہلا سوال یہ تھا کہ مجھے رسول خدا ۖ کے پاس لے چلو چنانچہ لوگ پکڑ کر لے گئے، جب یہ رسول خدا ۖ کے سامنے پہنچے ہیں تو اُس وقت کی حالت بیان میں نہیں آسکتی۔ اِس قسم کے واقعات جاں نثاری و جاں بازی کے قبل ہجرت کئی بار پیش آئے۔ (٧) کفارِ قریش نے نبوت کے ساتویں سال یہ تجویز متفقہ طور پر طے کی کہ آنحضرت ۖ کو اَور آپ کے ساتھ سارے خاندانِ بنی ہاشم کو محصور کر کے کھاناپینا بند کر کے فاقوں سے ہلاک کردیں چنانچہ ایک معاہدہ مرتب ہوا کہ کوئی شخص نہ خاندان بنی ہاشم سے قرابت کرے گا نہ اُن کے ہاتھ خریدوفروخت کرے گا، نہ اُن کے پاس کھانے پینے کا سامان پہنچے جب تک کہ وہ محمد ۖ کو قتل کرنے کے لیے ہمارے حوالہ نہ کردیں۔ اِس معاہدے پر سب نے تصدیقی علامات بنائیں اَور اُس کو