ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2012 |
¾اكستان Ù |
|
ایسی عشق و محبت میں ڈوبی ہوئی تھی کہ اِس کا کچھ اَندازہ اِس خطبہ کے اِلفاظ سے ہو تا ہے۔ یہ پہلا خطبہ تھا جو اِسلام میں پڑھا گیا تھا، اِس کے بعد جو اِیذائیں کافروں نے حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کو دیں اَور جس ذوق کے ساتھ اُن اِیذاؤں کو اُنہوں نے برداشت کیا وہ بجائے خود ایک دفتر عشق ہے۔ (٥) اِسلام لانے کے بعد اپنے گھر کے سامنے حضرت صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک مسجد بنائی اَور یہ پہلی مسجد ہے جو اِسلام میں بنائی گئی۔ اِس مسجد میں روزانہ صبح کو بیٹھ کر قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے تھے، قرآنِ مجید اَور پھر صدیق رضی اللہ عنہ کی زبان سے سننے والوں کا ہجوم ہو جاتا تھا اَور ناممکن تھا کہ کسی نہ کسی پر اَثر نہ ہو، روز کا یہ مشغلہ دیکھ کر کافروں نے مزاحمت کی آخر حضرت صدیق رضی اللہ عنہ با اِجازت نبوی ۖ بجانب حبش ١ ہجرت کی نیت سے روانہ ہو گئے۔ راستہ میں اِبن الدغِنہ کافر تاجر قریش ملا اَور وہ بہ اِ صرار واپس لایا اَور رُؤسائے قریش سے کہا کہ تم ایسے شخص کو نکالے دیتے ہو جو بے دیکھی ہوئی چیز ٢ یعنی ثوابِ آخرت کو کماتا ہے اَور صلۂ رحمی کرتا ہے اَور لوگوں کی غمخو اری کرتا ہے اَور مہمانوں کی ضیافت کرتا ہے ۔اَچھا اَب میں اِن کو اَمان دے کر واپس لا یا ہوں، کوئی اِن سے مزاحمت نہ کرنا ۔سب کافروں نے اِبن الدغِنہ کی اَمان کو منظور کر لیا مگر حضرت صدیق رضی اللہ عنہ فورًا بول اُٹھے کہ میں کافر کی اَمان میں نہیں رہنا چاہتا میرے لیے اللہ اَور رسول کی اَمان کافی ہے۔ اِس کے بعد رسول خدا ۖ کے خدمت میں گئے اَور سارا قصہ بیان کیا آپ ۖ نے فرمایا اے اَبو بکر! اَب تم کہیں نہ جاؤ ہم کو بھی ہجرت کی اِجازت ملنے والی ہے ہمارے ساتھ چلنا چنانچہ حضرت ِ صدیق رضی اللہ عنہ نے پھر مکہ میں قیام کر دیا اَور پھر بدستور تلاوتِ قرآن اَور تبلیغ اِسلام کے دِل رُبا کام میں مشغول ہو گئے۔ سچ ہے ١ حبش میں حضرت نجاشی اَصحمہکی حکومت تھی، پہلے وہ عیسائی تھے ٦ھ میں مشرف بہ اِسلام ہوئے اُس وقت کے بادشاہوں میں یہ سعادت صرف اِن ہی کو ملی مگر اِسلام سے پہلے بھی مسلمانوں کو اِن کی حکومت میں امن سا تھا اِسی وجہ سے حضرت صدیق رضی اللہ عنہ نے حبش کا قصد کیا تھا۔ ٢ یہی کلمات حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے بوقت ِبعثت آنحضرت ۖ کے متعلق کہے تھے ،اَللہ اکبر۔آنحضرت ۖ کے اَوصاف کس درجہ اِن میں سرایت کر گئے تھے۔