ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2012 |
¾اكستان Ù |
|
کعبہ میں آویزاں کیاتاکہ کوئی شخص خلاف ورزی کی جرأت نہ کرے، مجبور ہو کر آپ ۖ مع اپنے چچا اَبوطالب اَور سارے خاندان کے مکہ سے باہر ایک پہاڑ کے دَرّے میں جس کو ''شعب اَبی طالب'' کہتے ہیں چلے گئے۔ یہ مصیبت تین سال تک رہی اِن تین سالوں میں جو سختیاں گزریں کسی ظالم کے ظلم میں اِس کی نظیر نہ ملے گی، جنگلی درختوں کی پتیاں کھاکر زندگی کے دِن پورے کیے گئے بلکہ سچ تویہ ہے کہ ایسی حالت میں زندہ ہی رہنا خدا کی قدرت کا ایک نمونہ تھا۔ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ اَز خود اِس مصیبت میں شریک ہو گئے آپ ۖ کے ساتھ وہ بھی شعب اَبی طالب چلے گئے اَور وہیں رہے۔ جب آنحضرت ۖ کو خدا نے اِس مصیبت سے نجات دی تو اُنہوں نے بھی نجات پائی اَبو طالب نے اِسی واقعہ کو اپنے اِس شعر میں بیان کیا ہے وَھُمْ رَجَعُوْا سَھْلَ بْنَ بَیْضَائَ رَاضِیًا فَسُرَّ اَبُوْبَکْرٍ بِھَا وَ مُحَمَّد ''اہل مکہ نے سہل بن بیضاء کو (جو مصالحت کے لیے قاصد بن کر گئے تھے )راضی کر کے واپس کیا (یعنی صلح کر لی)پس اِس صلح سے اَبوبکر رضی اللہ عنہ اَور محمد ۖ بہت خوش ہوئے۔'' (٨) جب رسولِ خدا ۖ کہیں تبلیغ کے لیے تشریف لے جاتے تو حضرت صدیق رضی اللہ عنہ ضرور آپ کے ساتھ ہوتے اَور ہر مصیب و آفت میں سینہ سپر رہتے چنانچہ جب موسم ِحج میں قبائلِ عرب کے پاس تشریف لے گئے اَور جب طائف تشریف لے گئے اِن تمام مواقع میں حضرت صدیق رضی اللہ عنہ ساتھ تھے۔ (٩) مکہ میں آنحضرت ۖ کا یہ معمول تھا کہ صبح و شام دونوں وقت حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے جاتے اَور مشورہ طلب اُمور میں اُن سے رائے کرتے۔ (١٠) جب اُم المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات ہوئی اَورآنحضرت ۖ کو