ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2012 |
¾اكستان Ù |
|
(٣) جب حضرت صدیق رضی اللہ عنہ اِسلام لائے تو علاوہ مالِ تجارت کے چالیس ہزار روپیہ نقد اُن کے پاس تھا وہ سب اُنہوں نے رسولِ خدا ۖ کی خدمت اَور اِسلام کی اِشاعت میں صرف کر دیا۔ اَزاں جملہ ١ سات غلاموں کو جو مسلمان ہو جانے کے سبب سے طرح طرح ظلم و ستم کا نشانہ بنے ہوئے تھے مول لے کر آزاد کیا جن میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا واقعہ عام طور پر مشہور ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسولِ خدا ۖ نے کچھ مال راہِ خدا میں دینے کا حکم دیا اُس وقت میرے پاس بہت مال تھا دِل میں خیال آیا کہ آج میں حضرت صدیق سے بڑھ جاؤں گا چنانچہ میں نے آدھا مال حاضر کر دیا (جو ایک معقول مقدار میں تھا) اِس کے بعد حضرت صدیق رضی اللہ عنہ بھی کچھ قدر ِقلیل لائے مجھ سے رسولِ خدا ۖ نے پوچھا اپنے اہل و عیال کے لیے کس قدر چھوڑا میں نے عرض کیا ،آدھا۔ مگر حضرت صدیق رضی اللہ عنہ سے جو دریافت فرمایا تو اُنہوں نے کہا کہ اہل و عیال کے لیے میں نے اللہ اَور اُس کے رسول ۖ کو چھوڑا ہے یعنی کُل مال لے آیا ہوں گھر کچھ مال نہیں چھوڑا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اُس وقت مجھے یقین ہو گیا کہ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ سے کبھی میں سبقت نہیں لے جا سکتا۔ (٤) جب اِبتدائے نبوت میں تبلیغ کا حکم آیا اَور یہ آیت اُتری فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ یعنی اے نبی اَحکامِ خدا وندی کی تبلیغ کی تکلیف بر داشت کیجیے تو حضرت صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ۖ آپ اِبتدا نہ کریں، قریش کے جہلاء و اَشرار توحید کا بیان اَور شرک کابطلان سن کر جس سے اَب تک اُن کے کان نا آشنا ہیں خدا جانے کس قدر مشتعل ہوں اَور کیا کر گزریں، لہٰذا اِبتداء مجھے کرنے دیجیے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اَور اُس وقت حضرت صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک عجیب خطبہ پڑھا جس میں حق تعالیٰ کی توحید اَور آنحضرت ۖ کی رسالت اَور شرک و بت پرستی کی مذمت بیان کی۔ یہ تقریر کچھ ١ اِن ساتوں کے نام حسب ِذیل ہیں : بلال، عامر بن فہیرہ،نہدیہ ، بنت نہدیہ ،زنیرہ ،اُم حبس،بنو مرمل کی ایک کنیز رضی اللہ عنہم واَماتنا علیٰ حبہم۔ (اِزالة الخفاء مقصد اَوّل ص ٢٥٢)