ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2012 |
¾اكستان Ù |
|
گئے لوگوں نے اِصرار کیا کہ حضرت جس گاؤں میں آپ کو جانا ہو اُسے بُلالیتے ہیں فرماتے تھے نہیں وہاں سے پانچ دس لوگ آجائیں گے میں جاؤں گا تو پورا گاؤں مجھ سے ملے گا۔ تو لوگوں سے تعلق قائم کرنا ورنہ باطل طاقتوں کی پوری کوشش ہوگی کہ علماء سے عوام کا کنکشن ٹوٹ جائے اَور عوام کو علماء کے خلاف کردیا ثمر قند میں تاشقند میں بڑے بڑے مدرسے تھے بخارا میں دو دو سو مدرسے کسی ایک جگہ پر تھے ......... اَور وہی لوگ جو علماء کی عقیدت و اِحترام لیے ہوئے تھے اُن کے ہاتھ چومتے تھے اُن ہی کو علماء کے خلاف بھڑ کا کر اُن سے علماء کی گردنیں کٹوائیں تو عوام کے ساتھ بھی ہمارا تعلق باقی رہے اُس کو بھی یہیں سیکھنا ہے کہ کیسے عوام کے ساتھ ہم ریلیف پہنچائیں گے ۔ دین سیکھنا یہ ایک مسقتل فریضہ ہے کس طرح کن آداب کے ساتھ حاصل کرنا ہے کتاب کا اِحترام کیا ہو اُستاد کا اَدب و اِحترام کیا ہو پھر ہماری زندگیوں میں کیسے اِس کے اَثرات داخل ہوں اَور پھر اِسے پہنچانے کا طریقہ بھی سیکھنا پڑے گا ۔ میں گزشتہ دنوں میں ............ گیا چھوٹا سا ملک ہے جرمنی اَور ہالینڈ کے بیچ میں چند لاکھ ڈیڑھ دو لاکھ کی آبادی ہے بینکوں کے نام پر وہاںبڑے بڑے مین دفاتر ہیں ........عیسائی مشنری تھے وہاں پر میں وہاں پر چلا گیا تو میں نے دیکھا وہاں پر وہ لوگ ہم جیسی اُردو بول رہے ہیں زبانیں سکھائی جا رہی ہیں دعوت کے لیے ، بنگالیوں جیسی بنگالی بول جا رہے ہیں عربوں جیسے عربی بول رہے ہیں جبکہ اُن کا مذہب دعوتی مذہب نہیں ہے ۔حضرت عیسٰی علیہ السلام کا قول خود بائبل میں موجود ہے کہ میں صرف بنی اِسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے لیے بھیجا گیا ہوں اَور یہ مجھ سے نہیں ہوگا کہ پہلے بنی اسرائیل کے لڑکوں کی روٹی کتوں سے .........پہنچاؤں ہمارا دعوتی مذہب ہے کَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا اَب کوئی نبی نہیں یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ کتنے کروڑ رشین بولتے ہیں کتنے کروڑ فرینچ بولتے ہیں کتنے کروڑ نار وے زبان بولتے ہیں تو اُن کوکون اِسلام پہنچائے گا اُن کا ذمہ دار کون ہوگا ؟ خدا نے اُن کے بارے میں پوچھنا بھی ہے۔ تو دعوت کی نیت سے بھی آپ علم کو حاصل کریں کہ ہمیں سیکھنا ہے عمل میں اُتار نا ہے اَور دُنیا