ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2012 |
¾اكستان Ù |
|
سیکھنی ہے کیونکہ جو علم ہم حاصل کر رہے ہیں علم کا خزانہ وہ ہمارے پاس ہی نہ رہ جائے اُسے پوری دُنیا میں پہنچانا بھی ہے اَقوام کو پوری دُنیا کو اِس کی ضرورت ہے اَقوام عالم کو ۔ اَور واقعی دعوت ایک ایسا موضوع تھا کہ جس سے اِسلام دُنیا میں پھیلا یعنی حضور اکرم ۖ کے دَور میں دس لاکھ مربع میل، دَورِ صحابہ میں بائیس لاکھ اَور دَور ِ عثمانی میں چوالیس لاکھ اَور حضرت معاویہ کے دَور میں پینسٹھ لاکھ مربع میل یعنی جو پورا عالم اِسلام آج کہلا تا ہے اُ س میں پورا سمرقند، تاشقند ،بخارا، سندھ، بلوچستان اسپین یہ سب صحابہ کی دعوت کا پھل ہے بعد میں بھی اِسلام پھیلا اَور ذرائع بھی اِستعمال ہوئے عسکری ذرائع اَور دُوسری چیزیں بھی لیکن وہاں دیر پا نہیں ہوا مستحکم نہیں ہوا اَگر عسکری ذریعے سے آیا تو عسکریت ختم ہوتے ہی وہاں عالم بدل گیا ١ لیکن جو صحابہ کے ذریعے آیا (خواہ بذریعہ تلوار یا بذریعہ مصالحت) وہ آج تک اِیمان پر باقی ہے ۔ '' دعوت'' کا مطلب کیا ہے کہ اِنسان دعوت بھی دیتا ہے اَور عملی نمونہ بھی پیش کرتا ہے ورنہ دعوت کا اَثر ہی نہیں ہوگا۔ایک عالم کسی مسجد میں اِمام بن کر جائے گا تو وہ اپنے آپ کو نمونہ بھی بنائے گا اُس کا لوگوں سے اِتنا تعلق ہوگا جیسے ایک باپ کااَپنی اَولاد کے ساتھ ہوتا ہے اِتنی شفقت ہوگی اُسے کہ بھائی فلاں نما ز کے لیے کیوں نہیں آئے کوئی بیمار تو نہیں ہے اُس کے پاس جارہا ہے۔ آج سب سے بڑی جو کوتاہی ہو رہی ہے وہ یہ ہے کہ ہمارا عوام سے تعلق کٹ گیا عوام کو دُشمنوں نے اپنے پھندے میں پھنسا لیا اپنے قبضہ میں لے لیا ،ہمارے اَکابر عوام کے اَندر رہتے تھے مولانا اِلیاس رحمة اللہ علیہ کا عمل ہمارے سامنے ہے ۔ سہارنپور میں مفتی مظفر حسین صاحب رحمة اللہ علیہ چند سال پہلے اِنتقال ہوا وہ صبح حدیث پڑھاتے تھے دو چار گھنٹے اَور دوپہر بعدباہر چاہے کتنا ہی سخت موسم ہو شدید سردی ہو گرمی ہو بارش ہو وہ اَطراف میں عوام کے پاس جاتے تھے آخری عمر میں بہت بیماریاں لگ گئیں بہت ضعیف ہو ١ مطلب یہ ہے کہ آج کل کی طرح کی فوج کَشی جو جہاد اَور جذبۂ جہاد سے عاری ہوتی ہے اِس کے نتائج اَچھے نہیں ہوتے اَلبتہ اَگر اعلائِ کلمة اللہ اَور کفر کی شوکت توڑ نے کے اُصول کے تحت فوج کَشی ہو تو اَجرو ثواب کے ساتھ ساتھ اِس کے اَثرات دیر پا اَور لازوال ہوتے ہیں عام فوج کَشی اَور جہاد کے درمیان یہی بنیادی فرق ہے۔