ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2011 |
اكستان |
|
جوق دَرجوق چلے آرہے ہیں اَور'' جعلی مقابلہ'' کی جگہ کی تصویریں اُتار اُتار کر دُنیا کے یہ نام نہاد سیانے بڑے فاتحانہ اَنداز میں اپنے اپنے دیس واپس ہوتے ہیں۔ خیر ہماری سواری کبھی تنگ کبھی کشادہ سی گلیوں میں دائیں بائیں ہوتی ہوئی آگے بڑھتی رہی ایک مقام پر دو پولیس والے نظر آئے جو تپائیوں پر بیٹھے آپس میں گپ شپ بھی کر رہے تھے اَور نظر بھی رکھے ہوئے تھے کچھ اَور آگے گئے تو چند فوجی نظر آئے جنہوں نے بائیں طرف ایک تنگ راستہ پر رُکاوٹیں کھڑی کی ہوئی تھیں راستہ کے بالکل سامنے ہمارے میزبان نے گاڑی کھڑی کی اَور اِشارہ کرتے ہوئے بتلایاکہ وہ سامنے تقریبًا سو گز کے فاصلہ پر جو مکان نظر آرہا ہے یہی وہ جگہ ہے جس کو شہید اُسامہ کی رہائشگاہ کا نام دیا گیا ہے ہمیں دیکھ کر ایک فوجی مستعد ہو کر کھڑا ہوگیا اَور دُور سے ہمیں تکتا رہا۔ میں نے پوچھا گاڑی آگے نہیں جا سکتی تو میزبان نے کہا کہ نہیں صرف وہ لوگ یہاں سے آگے شناخت کے بعد جاسکتے ہیں جن کی رہائشگاہیں اِس کے اَندر ہے باقی غیرملکی اَنگریز سیاح توبطورِ خاص رہائشگاہ کے اَندر جا کر تصوریریں بھی بناتے ہیں اَور خوشیاں بھی مناتے ہیں ۔ مگر یہ جان کر بہت حیرت ہوئی کہ ہم جو کہ اِس ملک کے باسی بھی ہیں اَور خیر خواہ بھی اَندر نہیں جاسکتے مگر اِسلام اَور مسلمانوں کے دُشمن جو کہ دَرحقیقت سیاحوں کے رُوپ میں جاسوس ہوتے ہیں بڑے کرّو فرّ کے ساتھ آ جاسکتے ہیں۔ اپنی قوم کے ساتھ اِس اِمتیاز کے پیچھے کیا حکمتیں اَور کون سے ملکی مفادات پوشیدہ ہیں ہماری ناقص فہم اِس کے اِدراک سے عاجز ہے سوا ئے اِس کے اَور کیا کہا جا سکتا ہے کہ ع اِس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے