ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2010 |
¾اكستان Ù |
|
نماز کے بعد مسجد کے امام الشیخ احمد عمر جو بڑی عمر کے ہیں اُن سے ملاقات کی اپنا تعارف کرایا تو وہ بہت خوش ہوئے۔ اُنہوں نے ایک نوجوان سے کہا کہ یہ ہمارے مہمان ہیں اِن کو مسجد کی زیارت کروائیں اَور مسجد کے بارے میں پوری معلومات دیں۔ اُس نوجوان نے ہمیں مسجد کے مختلف حصے دِکھائے اَور مسجد کے اَندر استعمال ہونے والے مٹیریل، سنگ مرمر ،لکڑی جس نے اِس مسجد کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیے ہیں مسجد کی تعمیر میں حصہ لینے والے مستری اَور مزدوروں کی تعداد بھی بتائی جو ہمارے دماغ سے محو ہو گئی کسی آدمی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے دو چیزیں خاص طور پر عطا فرمائی ہیں ایک حافظہ اَور دُوسری مجھے یاد نہیں رہی یہی حال کچھ ہمارا بھی ہے۔ مسجد دیکھنے کے بعد ہم تھوڑی دیر باہر مسجد کی دیوار پر بیٹھ کر سمندر کا نظارہ کرتے رہے سمندر کی لہریں مسجد کی دیواروں کے ساتھ ٹکرا کر ایک عجیب سماں باندھ رہی تھیں۔ مسجد کے احاطے میں کثیر تعداد میں نوجوان جوڑے سکول اَور کالجز کے طلباء و طالبات مسجد کے مینار کے سائے تلے اَور سمندر کی گیت گاتی اَور تھر تھراتی لہروں کے شور میں پیار و محبت عہد و فا اَور زندگی کے حسین لمحوں سے لطف اَندوز ہو رہے تھے۔ مرکیش سے صبح آٹھ بجے کے قریب ہم ناشتہ کر کے نکلے تھے اَب پیٹ بھی لاحول پڑھ رہا تھا۔ مسجد کے قریب ہی ایک جگہ سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر ایک چھوٹا سا ''کھوکھا'' نما ریسٹورنٹ بنا ہوا تھا جہاں لوگ اپنے اپنے پیٹ کی آگ بجھا رہے تھے ،سمندر کی چھوٹی چھوٹی سانڈے کی مثل مچھلیاں اِس ریسٹورنٹ کی خاص ڈش تھی وہاں کے لوگوں کو مچھلی کی پلیٹیں بھر کر کھاتے دیکھا تو ہم نے بھی مچھلی کا آرڈر دیا، مولوی آفتاب صاحب نے ایک نہیں دو دو پلیٹوں پر ہاتھ صاف کیے۔ بہر حال جب بھوک خوب لگی ہو تو کھانے کا مزہ کچھ اَور ہی ہوتا ہے۔ کا سا بلنکا کچھ وقت گزار کر ہم دارالحکومت رُباط کے لیے روانہ ہوئے دارالبیضاء سے رباط تک کا فاصلہ 80 کلو میٹر ہے یہاں رباط کا یک طرفہ کرایہ فی کس 32 درہم ہے ہم نے جس ٹرین کا ٹکٹ لیا وہ یہاں تیز اَور جلدی جانے والی ٹرین شمار کی جاتی ہے۔ دارُالبیضاء سے رُباط تک پورا علاقہ زرخیز اَور سر سبز و شاداب علاقہ ہے۔ اِس علاقے میں چھوٹے چھوٹے شہر اَور بستیاں بھی گزرتی رہیں اُن میں ایک شہر کا نام ''مدینہ محمدیہ'' ہے یہ ایک چھوٹا سا اَور خوبصورت قصبہ ہے، مجھے یہ نام بہت اچھا لگا۔