ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2010 |
اكستان |
|
''اگر ہندوستان میں متحدہ قومیت کا کمزور جذبہ بھی پیدا ہو جائے اَور اُس میں اَجنبیوں کے نکالنے کی کوئی عملی رُوح بھی نہ ہو، بلکہ صرف اِس قدر احساس عام ہو جائے کہ اَجنبی حکومت سے اتحاد عمل ہندوستانیوں کے لیے شرمناک ہے تو اُسی وقت سے ہماری شہنشاہیت کا خاتمہ ہو جائے گا کیونکہ ہم درحقیقت ہندوستان کے فاتح نہیں ہیں اَور نہ اُس پر فاتحانہ حکمرانی کر سکتے ہیں۔ اگر ہم اِسی طرح کی حکومت کرنی بھی چاہیں گے تو اِقتصادی طور پر قطعاً برباد ہو جائیں گے۔'' اِسی بناء پر ہمیشہ سے یہی کوشش مدبرانِ برطانیہ کی جاری رہی ہے کہ یہ جذبہ ہندوستانیوں میں پیدا نہ ہونے دیا جائے اور اگر کبھی کوئی صورت اِس کی پیش آ بھی جائے تو اِس کو جلد اَز جلد ہر ممکن صورت سے تفرقہ ڈلوا کر فنا کر دیا جائے۔ ''لڑائو اَور حکومت کرو'' کی انگریزی پالیسی مشہور اَور مشاہد ہے۔ بالخصوص کانگرس کے پیدا ہونے کے بعد تو اِس راہ میں اِنتہائی جدوجہد جاری ہے۔ مسٹربیک اَور مسٹر ماریسن اَور سر آکلینڈ کالون کی اِنتہائی اِنفرادی مساعی اَور پھر ١٨٨٨ء میں اجتماعی مساعی اِس کی شاہد عدل ہیں جس کے ماتحت اَولاً اِسی سن میں ''یونائیٹڈ اِنڈین پیٹریاٹک ایسوسی ایشن ''قائم کرائی گئی جس کا دُوسرا نام ''اَینٹی کانگرس اَیسوسی ایشن'' تھا۔ پھر ١٨٩٣ء میں محمڈن اینگلو اَور ینٹل ڈیفنس ایسوسی ایشن آف اَپر اِنڈیا'' تخلیق کی گئی جس کے مقاصد حسب ذیل قرار دیے گئے تھے : (١) مسلمانوں کی رائیں انگریزوں اَور گورنمنٹ ہند کے سامنے پیش کر کے مسلمانوں کے سیاسی حقوق کی حفاظت کرنا۔ (٢) عام سیاسی شورش کو مسلمانوں میں پھیلنے سے روکنا۔ (٣) اُن تدابیر میں امداد دینا جو سلطنت ِبرطانیہ کے استحکام اَور اُس کی حفاظت میں معاون ہوں۔ ہندوستان میں امن قائم رکھنے کی کوشش کرنا اَور لوگوں میں وفا داری کے جذبات پیدا کرنا ۔ مسٹر بیک اَور مسٹر کالون وغیرہ کی اِنفرادی مساعی کا یہ نتیجہ تھا کہ سر سید جیسے تیز اَور سخت