ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2010 |
¾اكستان Ù |
|
سیاسی آدمی کے خیالات پر نہایت زہریلا اَثر ڈالا گیا۔ ''اسباب ِبغاوتِ ہند'' کے لکھنے والے شخص کے عقائد اَور اِرادوں کو پیہم مساعی سے بالکل ہی جامد اَور انگریز پرست اَور ڈر پوک بنا دیا گیا۔ مسلمانوں کو ہمیشہ دھوکا دیا گیا اَور آج بھی نہایت قوت اور چالاکی سے دیا جا رہا ہے۔ اُن کو چاہیے کہ گذشتہ تاریخ کا مطالعہ کریں اَور اپنے تحفظ و زندگی کا سامان کریں۔ اہل مطالعہ سے میری پر زور درخواست ہے کہ وہ ''مسلمانوں کا روشن مستقبل'' یہ کتاب جو ابھی ابھی مطبع نظامی بدایوں سے چھپی ہے کا بغور مطالعہ فرمائیں۔ و السلام ننگ اسلاف حسین احمد غفرلہ٨ ذی الحجہ ١٣٥٦ھ (جاری ہے) حضرات صحابہث کی قابلِ تقلید اِمتیازی صفات ''جسے پیروی کرنی ہے وہ حضراتِ مرحومین کی پیروی کرے کیونکہ زندہ آدمی فتنہ سے محفوظ نہیں ہے۔ اَور (وہ قابلِ اِتباع حضرات) آنحضرت اکے صحابہ ث ہیں: جو اِس اُمت کے افضل ترین حضرات تھے، وہ دِلوں کے اعتبار سے سب سے نیک، علم کے اعتبار سے سب سے گہرے اَور تکلف میں سب سے کم تھے (سادہ زندگی والے تھے) اللہ تعالی نے اُن کو اپنے پیغمبر ا کی صحبت ِمبارکہ اَور اپنے دین کی خدمت کے لیے منتخب فرمالیا تھا، لہٰذا تم اُن کی فضیلت کو پہچانو اور اُن کے نقش ِقدم پر چلو اَور تم سے جس قدر ہوسکے اُن کے اَخلاقِ فاضلہ اَور مبارک سیرت کو مضبوطی سے تھامے رکھو اِس لیے کہ وہ سیدھی راہ پر قائم تھے۔''(مشکوٰة شریف ج ١ ص٣٢ ) اِس اِرشاد سے معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام ث میں خاص کر تین صفات نمایاں تھیں : (١) دِلوں کی نیکی (٢) علمی گیرائی (٣) سادگی وبے تکلفی۔ یہ ایسی صفات ہیں کہ جس فرد اَور جس جماعت میں پیدا ہوجائیں اُس کو دَارین کی عظمت نصیب ہوسکتی ہے۔