ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2010 |
اكستان |
|
حرف آغاز نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم امابعد! پاکستانی خاتون عافیہ صدیقی جو سات برس کے طویل عرصہ سے امریکہ میںقید ہیں اُن پر دہشت گردی کے تحت سات خود ساختہ اِلزامات لگا کر امریکہ کی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔یک طرفہ مقدمہ بازی کے بعد ٢٣ستمبر کو نیو یارک کی عدالت نے عافیہ صدیقی کو ٨٦ برس کی قید کا حکم سُنایا۔ اِس غیر منصفانہ فیصلہ پر پاکستان میں شدید عوامی ردّعمل ہوا مگر حکومتی سطح پر مکمل بے حسی کا مظاہرہ کیا گیاحتی کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں اَور حزب ِ اِختلاف نے بھی زبانی جمع خرچ پر اِکتفاء کرتے ہوئے امریکہ کی نمک حلالی کی،صرف مذہبی سیاسی جماعتوں کی طرف سے ردّعمل سامنے آیا۔ جبکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ اَب سے بہت پہلے حزبِ اِقتدار اَور حزب ِ اِختلاف مل کر مشترکہ طور پر فوری اَورشدید ردّعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے قوم کی بیٹی کی عصمت و آبرو کی حفاظت اَور باعزت واپسی کے لیے عملی اِقدامات کرتی مگر اَب بہت کچھ ہو جانے کے بعد سوائے رسمی ہمدردیوں کے قوم کے قائدین نے کچھ نہ کیا۔