ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2010 |
اكستان |
|
اِسلامی تعلیم اور نظریہ کا کوئی ذکر بھی نہیں تھا۔ میرے محترم !اِس اَجنبی اَور خود غرض حکومت اَور خون چوسنے والی قوم نے جس قعرِ مذلت اَور ہلاکت اَور قحط و اَفلاس کے تیرہ و تار گڑھے میں تمام ہندوستانیوں کو عموماً اَور مسلمانوں کو خصوصاً عرصہ ٔدراز سے ڈال رکھا ہے اَور جس طرح وہ ہندوستانیوں کو روزاَ فزوں فنا کے گھاٹ اُتارتی جا رہی ہے وہ اِس قدر ظاہرو باہر ہے کہ اِس کے بیان کی حاجت نہیں ہے۔ نیز اِس سے آزاد ہونا اَور ملک و ملت کی زندگی اَور بہبودی کی فکر اَور سعی کرنا ہر حیثیت سے سبھوں کا فریضہ ہونا بھی اَظہر من الشمس ہے (اِن دونوں چیزوں سے بجزغبی یا مکابر کوئی شخص بھی منکر نہیں ہو سکتا) اگرچہ اِس پردیسی خونخوار قوم سے نجات کے اَور ذرائع بھی عقلاً ممکن ہیں، مگر جس قدر قوی اَور مؤثر ذریعہ تمام ہندوستانیوں کا متفق اَور متحد ہو جانا ہے اَور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ اس کے آگے اِس حکومت کے جملہ اسلحہ اَور تمام قوتیں بیکار ہیں اَور بغیر نقصانِ عظیم ہندوستانی اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا اَشد ضرورت ہے کہ تمام باشندگانِ ملک کو منظم کیا جائے اَور اُن کو ایک ہی رشتے میں منسلک کر کے کامیابی کے میدان میں گامزن بنایا جائے۔ ہندوستان کے مختلف عناصر اَور متفرق ملل کے لیے کوئی رشتہ ٔاِتحاد بجز ''متحدہ قومیت'' کے نہیں جس کی اساس وطنیت ہی ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کانگرس نے ابتداء ہی سے اِس امر کو اپنے اغراض و مقاصد میں داخل کیا ہے۔ ١٨٨٥ء میں جبکہ کانگرس کا پہلا اجلاس ہوا تو سب سے پہلا مقصد مندرجہ ذیل الفاظ میں ظاہر کیا گیا۔ ''ہندوستان کی آبادی جن مختلف اَورمتصادم عناصر سے مرکب ہے اُن سب کو متفق اَور متحد کر کے ایک قوم بنایا جائے۔'' یہی متحدہ قومیت اِنگلستان کے دِل میں ہمیشہ سے کھٹکتی رہی ہے اَور ہر انگریز اِس سے خائف اَور اِس کے زائل کرنے کے لیے ہر طرح سے ساعی ہے۔ پروفیسر سیلے نے Expansion of England میں اِس کے متعلق یہ لکھا ہے :