ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2010 |
اكستان |
|
ہے، عربی قوم، عجمی قوم، ایرانی قوم، مصری قوم، پختون قوم، سیدوں کی قوم، شیخوں کی قوم، کنجڑوں کی قوم، موچیوں کی قوم، کالوں کی قوم، گوروں کی قوم، صوفیوں کی قوم وغیرہ وغیرہ۔ یہ محاورات تمام دُنیا میں شائع ہیں اَور زبان عربی بلکہ آیات و اَحادیث میں بکثرت وجوہ پر اِطلاق لفظ قوم کا پایا جاتا ہے۔ اِن ہی میں ہندوستانی قوم بھی ہے۔ موجودہ زمانے میں ہندوستانی قوم سے بیرونی ممالک میں تمام باشندگانِ ہندوستان سمجھے جاتے ہیں خواہ اُردو بولنے والے ہوں یا بنگلہ، خواہ کالے ہوں یا گورے، ہندو ہوں یا مسلمان، پارسی ہوں یا سکھ، اِنڈین کا لفظ ہر ہندوستانی پر اِطلاق کیا جاتا ہے۔ میں ہندوستان سے باہر تقربیاً سترہ برس رہا ہوں۔ عرب، شام، فلسطین، افریقہ، مصر، مالٹا وغیرہ میں رہنا ہوا۔ ہر ملک کے باشندوں سے ملنا جُلنا، اُٹھنا بیٹھنا ہوا۔ جرمن، آسٹرین، بلگیرین، انگریز، فرانسیسی، آسٹریلین، امریکی، رُوسی، چینی، جاپانی، ترکی، عربی وغیرہ مسلم اَور غیر مسلم کے ساتھ سالہا سال مِلنا جُلنا اَور نشست و برخاست کی نوبت آئی۔ اگر یہ لوگ عربی یا ترکی یا فارسی یا اُردو سے واقف ہوتے تھے تو بِلا ترجمان ورنہ بذریعہ ترجمان گفتگو ہوتی تھی۔ سیاسی مسائل اَور مذہبی اُمور زیرِ بحث رہتے تھے۔ میں نے بیرونی ممالک کے عام لوگوں کو اِسی خیال اَور عقیدے پر پایا کہ وہ ہندوستانی لوگوں کو ایک قوم سمجھتے ہیں اَور سب کو باو جود مختلف المذاہب و مختلف اللسان و الالوان ہونے کے ایک ہی لڑی میں پروتے ہیں۔ لغوی معنی اِس سے اِنکاری نہیں عرف اِس کا متقاضی ہے۔ پھر اِس کے اِنکار کے کیا معنی ہیں؟ یہ دعوے کہ اِسلام کی تعلیم، قومیت کی بنیاد، جغرافیائی حددو یا نسلی و حدت یا رنگ کی یکسانی کے بجائے شرف اِنسانی یا اُخوتِ بشری رکھتی ہے (جیسا کہ مدیر ''احسان'' کا دعوی ہے) مجھے نہیں معلوم کہ نص قطعی یا ظنی سے ثابت ہے، جس کی بنا پر اختلافِ اَوطان وغیرہ پر اِطلاق لفظ قوم ممنوع ہو۔ لوگوں میں مساویانہ برتائو اَور برادرانہ معاملات دُوسری چیز ہیں حالانکہ اِن میں اِمتیاز عرفاً و شرعاً معتبر ہے۔ ا ِس کے علاوہ تقریر میں تو