ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2010 |
اكستان |
|
تو اور کیا ہے؟ زبان عربی اَور مقام محمد عربی(علیہ الصلوٰة والسلام) سے کون بے خبر ہے؟ ذرا غور فرمائیے۔ میں نے اپنی تقریر میں لفظ قومیت کا کہا ہے، ملت کا نہیں کہا ہے۔ دونوں لفظوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ملت کے معنی شریعت اَور دین کے ہیں اَور قوم کے معنی مردوں اَور عورتوں کی جماعت کے ہیں۔ قاموس میں ہے : ''وَبِالْکَسْرِ اَلشَّرِیْعَةُ اَوِالدِّیْنُ'' یہ ملت کی بحث میں ہے۔ نیز قاموس میں ہے: اَلْقَوْمُ اَلْجَمَاعَةُ وَ تَدْخُلُہُ النِّسَائُ تَبِعِیَّةً ۔ (بحث قوم) مجمع البحار میں ملت کے معنٰی اِن الفاظ کے ساتھ ذکر کیے گئے ہیں : ''مَا شَرَعَ اللّٰہُ لِعِبَادِہ عَلٰی اَلْسِنَةِ الْاَنْبِیَائِ وَیُسْتَعْمَلُ فِیْ جُمْلَةِ الشَّرَائِعِ لَا فِیْ اٰحَادِھَا ثُمَّ اتُّسِعَتْ فَاسْتُعْمِلَتْ فِی الْمِلَّةِ الْبَاطِلَةِ فَقِیْلَ اَلْکُفْرُمِلَّة وَاحِدَة ۔ میں نہیں سمجھ سکتا یہ منطق کون سی ہے؟ الفاظ قوم، ملت، دین تینوں عربی ہیں۔ اِن کے معانی کو لُغت عربی سے پوچھتے اَور دیکھتے کہ کسی عربی لُغت میں قوم اَو ر علی ہذا القیاس قوم اَور دین کو مرادف اَور ہم معنی قرار دیا ہے یا نہیں۔ آیات اور روایات کو ٹٹولیے اَور سر صاحب کی بوالعجبی کی داد دیجیے۔ اگر میری تقریر کے سیاق و سباق کو بھی حذف کر دیا جائے اَور عبارت میں حسب ِاعلان جریدئہ ''احسان'' ''قوم یا قومیت کی اساس وطن پر ہوتی ہے۔'' بتائی جائے تب بھی میں نے کب کہا کہ ملت یا دین کی اساس وطن پر ہے؟ پھر سر موصوف کی یہ نسبت ''سر دو برسر منبر الخ'' افترائِ محض نہیں تو اَور کیا ہے؟ اَور اُن کا اِن تینوں لفظوں کو ایک قرار دینا عجمیت اَور زبان عربی سے نا واقفیت نہیں تو اَور کیا ہے؟ آپ مجھ کو اِرشاد فرماتے ہیں کہ تو اپنے خیالات سے مجھ کو مطلع کر۔ جواباً عرض ہے کہ قوم کا لفظ ایسی جماعت پر اِطلاق کیا جاتا ہے جس میں کوئی وجہ جامعیت کی موجود ہو، خواہ وہ مذہبیت ہو یا وطنیت یا نسل یا زبان یا پیشہ یا رنگت یا کوئی اَور صفت مادّی یا معنوی کہا جاتا