ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2010 |
اكستان |
|
بھڑاس نکالی۔ ٩ جنوری کے ''اَنصاری'' اَور ''تیج'' کو ملاحظہ فرمائیے۔ میں نے یہ ہرگز نہیں کہا کہ مذہب و ملت کا دارو مدار وطنیت پر ہے۔ یہ بالکل اِفتراء اَوردجل ہے۔ ''احسان'' مورخہ ٣١ جنوری کے صفحہ ٣ پر بھی میرا قول یہ نہیں بتایا گیا بلکہ یہ کہا گیا کہ قوم یا قومیت کی اَساس وطن پر ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ بھی غلط ہے مگر یہ ضرور تسلیم کیا گیا ہے کہ مذہب و ملت کا مداروَطنیت پر ہونا میں نے نہیں کہا تھا۔ شملے کی چوٹیوں اَور نئی دہلی سے تعلق رکھنے والے ایسے افتراء کرتے ہی رہتے ہیں۔ اِس قسم کی تحریفیں اَور سب و شتم اُن کے فرائض میں سے ہیں، مگر سر اقبال جیسے مہذب اَور متین شخص کا اُن کی صف میں آ جانا ضرور تعجب خیز اَمر ہے، اُن سے میری خط و کتابت نہیں ،مجھ جیسے اَدنیٰ ہندوستانی کا اُن کی بارگاہِ عالی تک پہنچنا اگر محال نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ اگر غیر مناسب نہ ہو تو اُن کی بار گاہ عالی میں یہ شعر ضرور پہنچا دیجیے۔ ھَنِیْأً مَّرِیْئًا غَیْرَ دَائٍ مَّخَامِرٍ لِعِزَّةِ مِنْ اِعْرَاضِنَا مَا اسْتَحَلَّتِ اَفسوس کہ سمجھ دار اشخاص اَور آپ جیسے عالی خیال تو یہ جانتے ہیں کہ مخالفت کی بناء پر یہ اَخبار ہر قسم کی ناجائز اَور نا سزا کاروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ اِن پر ہرگز اعتماد ایسے امور پر نہ کرنا چاہیے اَور سر اقبال جیسے عالی خیال اَور حوصلہ مند،مذہب میں ڈوبے ہوئے تجربہ کار شخص کو یہ خیال نہ آیا نہ تحقیق کرنے کی طرف توجہ فرمائی۔ آیت اِذَا جَآئَکُمْ فَاسِق بِنَبَأٍ فَتَبَیَّنُوْا (الآیہ) گویا اُن کی نظر سے نہیں گزری۔ سر اقبال فرماتے ہیں : سرود بر سر منبر کہ ملت اَز وطن است چہ بے خبر زمقامِ محمد عربی است کیا یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ ملت اَور قوم کو سر اقبال ایک قرار دے کر ملت کو وطنیت کی بناء پر نہ ہونے کی وجہ سے قومیت کو بھی اِس سے منزہ قرار دے دیتے ہیں۔ یہ بو العجبی نہیں