Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2010

اكستان

42 - 64
بھڑاس نکالی۔ 
٩ جنوری کے ''اَنصاری'' اَور ''تیج'' کو ملاحظہ فرمائیے۔ میں نے یہ ہرگز نہیں کہا کہ مذہب و ملت کا دارو مدار وطنیت پر ہے۔ یہ بالکل اِفتراء اَوردجل ہے۔ ''احسان'' مورخہ ٣١ جنوری کے صفحہ ٣ پر بھی میرا قول یہ نہیں بتایا گیا بلکہ یہ کہا گیا کہ قوم یا قومیت کی اَساس وطن پر ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ بھی غلط ہے مگر یہ ضرور تسلیم کیا گیا ہے کہ مذہب و ملت کا مداروَطنیت پر ہونا میں نے نہیں کہا تھا۔ 
شملے کی چوٹیوں اَور نئی دہلی سے تعلق رکھنے والے ایسے افتراء کرتے ہی رہتے ہیں۔ اِس قسم کی تحریفیں اَور سب و شتم اُن کے فرائض میں سے ہیں، مگر سر اقبال جیسے مہذب اَور متین شخص کا اُن کی صف میں آ جانا ضرور تعجب خیز اَمر ہے، اُن سے میری خط و کتابت نہیں ،مجھ جیسے اَدنیٰ ہندوستانی کا اُن کی بارگاہِ عالی تک پہنچنا اگر محال نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ اگر غیر مناسب نہ ہو تو اُن کی بار گاہ عالی میں یہ شعر ضرور پہنچا دیجیے۔ 
ھَنِیْأً مَّرِیْئًا غَیْرَ دَائٍ مَّخَامِرٍ	لِعِزَّةِ مِنْ اِعْرَاضِنَا مَا اسْتَحَلَّتِ 
اَفسوس کہ سمجھ دار اشخاص اَور آپ جیسے عالی خیال تو یہ جانتے ہیں کہ مخالفت کی بناء پر یہ اَخبار ہر قسم کی ناجائز اَور نا سزا کاروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ اِن پر ہرگز اعتماد ایسے امور پر نہ کرنا چاہیے اَور سر اقبال جیسے عالی خیال اَور حوصلہ مند،مذہب میں ڈوبے ہوئے تجربہ کار شخص کو یہ خیال نہ آیا نہ تحقیق کرنے کی طرف توجہ فرمائی۔ آیت  اِذَا جَآئَکُمْ فَاسِق بِنَبَأٍ فَتَبَیَّنُوْا (الآیہ) گویا اُن کی نظر سے نہیں گزری۔ سر اقبال فرماتے ہیں  :
سرود بر سر منبر کہ ملت اَز وطن است	چہ بے خبر زمقامِ محمد عربی است
کیا یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ ملت اَور قوم کو سر اقبال ایک قرار دے کر ملت کو وطنیت کی بناء پر نہ ہونے کی وجہ سے قومیت کو بھی اِس سے منزہ قرار دے دیتے ہیں۔ یہ بو العجبی نہیں
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 5 1
4 جمعہ دیہات میں نہیں پڑھا جا سکتا 6 3
5 اَنصار کے متعلق خاص ہدایت 7 3
6 اِن ہی کو بیعت ِعقبہ کا شرف بھی حاصل ہے 7 3
7 جھوٹی نبیہ اَور جھوٹے نبی نے بیاہ رَچا لیا : 8 3
8 اَسّی برس کی عمر میں جہاد : 8 3
9 صحابہ اَور شوقِ جہاد:سات دِن بعد تدفین ،لاش خراب نہ ہوئی : 8 3
10 وفیات 9 1
11 علمی مضامین 10 1
12 اَنفَاسِ قدسیہ 15 1
13 اِسلامی سیاست 19 12
14 فتح مکہ کا سیاسی پس منظر 20 12
15 تربیت ِ اَولاد 21 1
16 لڑکیوں کو علمِ دین سکھانے اَور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت 21 15
17 گھر والوں کو دینی کتابیں سنانے کا معمول 22 15
18 اُمت ِمسلمہ کی مائیں 23 1
19 حضرت اُمِ حبیبہ رضی ا للہ تعالیٰ عنہا 23 18
20 ہجرت ِحبشہ 23 18
21 حرمِ نبوت میںآنا : 24 18
22 حبشہ سے مدینہ منورہ پہنچنا : 25 18
23 آنحضرت ۖ کا احترام 25 18
24 اتباعِ سنت : 26 18
25 فکر ِآخرت : 27 18
26 اِسلام کی اِنسانیت نوازی 28 1
27 اِسلامی مساوات 28 26
28 ظلم کی ممانعت : 30 26
29 بقیہ : حضرت اُم حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا 31 12
30 وفات : 31 12
31 گلد ستہ اَحادیث 32 1
32 توبہ نامہ 37 1
33 اَشعار اِقبال اَور حقیقت ِحال : 37 32
34 تمہید : 37 32
35 سفر نامہ ........ چھ دِن مراکش میں 48 1
36 مراکش کا مختصر تعارف : 49 35
37 ''مرکیش'' : 52 35
38 دینی مسائل 54 1
39 نعت النبی آقائے دو جہاں حتمی مرتبت ۖ 55 1
40 خانقاہ ِحامدیہ اَور رمضان المبارک 56 1
41 تقریظ وتنقید 58 1
42 اَخبار الجامعہ 62 1
Flag Counter