Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2010

اكستان

41 - 64
صاحب جلسہ کیا گیا تھا، اِس میں اہل محلہ کی طرف سے ایڈریس پیش کیا گیا۔ اُس میں میری مِلّی اَور وطنی خدمات کو سراہا گیا، جلسہ نہ وعظ و نصیحت کا تھا اَور نہ اِسلامی تعلیمات کے بیان کرنے کا، ایک روز صبح کو ایک مذہبی جلسہ ہو چکا تھا۔ شب کے جلسے کے اعلان میں یہ طبع کیا جا چکا تھا کہ حسین احمد کو ایڈریس پیش کیا جائے گا۔ ایڈریس کے اِس جلسے میں لیگیوں اَور بالخصوص مولوی مظہر الدین صاحب اَور اُن کے ہمنوائوں میں اِنتہائی غصہ  پھیلاہوا تھا۔ کوشش کی جا رہی تھی کہ جلسہ کو درہم برہم کیا جائے۔ جس کا احساس کر کے جناب ِصدر نے اپنی صدارتی تقریر میں یہ کہہ دیا تھا کہ اِس جلسے میں کانگرس اَور مسلم لیگ کے متعلق کوئی تقریر نہیں ہو گی۔ اِس کے بعد میں ایڈریس کا جواب دینے کے لیے کھڑا ہوا۔ میں نے بعض ضروری مضامین کے بعد ملک کی حالت، بیرونی ممالک اَور غیر اقوام، نیز اَندرونِ ملک میں آزادی کا تمہیدی مضمون شروع کیا تو کہا کہ موجودہ زمانے میں قومیں اَوطان سے بنتی ہیں، نسل یا مذہب سے نہیں بنتیں۔دیکھو! اِنگلستان کے بسنے والے سب ایک قوم شمار کیے جاتے ہیں حالانکہ اُن میں یہودی بھی ہیں، نصرانی بھی، پروٹسٹنٹ بھی ہیں ،کیتھولک بھی، یہی حال امریکہ، جاپان اَور فرانس وغیرہ کا ہے ۔جو لوگ جلسے کو درہم برہم کرنے آئے تھے اُنہوں نے شور مچانا شروع کر دیا۔ میں اُس وقت یہ نہ سمجھ سکا کہ شور کی وجہ کیا ہے۔ جلسہ جاری رکھنے والے لوگ اَور وہ چند آدمی جو شورو غوغا چاہتے تھے، سوال و جواب دیتے رہے اَور چپ رہو کے الفاظ سنائی دیے۔
 اگلے روز ''الامان'' وغیرہ میں چھپا کہ حسین احمد نے تقریر میں یہ کہا کہ قومیت وطن سے ہوتی ہے مذہب سے نہیں ہوتی اور اِس پر شور و غوغا ہوا۔ اُس کے بعد اِس ''الامان'' میں اَور دیگر اَخبارات میں سب و شتم چھاپا گیا۔ کلام کے اِبتداء اَور اِنتہا کو حذف کر دیا گیا اَور کوشش کی گئی کہ عام مسلمانوں کو ورغلایا جائے۔ میں اِس تحریف و اِتہام کو دیکھ کر چپکا ہو گیا ۔ تقریر کا بڑا حصہ ''اَنصاری'' اَور ''تیج'' میں بھی چھپا، مگر اُس کو کسی نے نہیں لیا۔ ''الامان'' اَور ''وحدت''سے ''اِنقلاب'' اَور ''زمیندار''نے لیا اَور اپنے اپنے دِلوں کی
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 5 1
4 جمعہ دیہات میں نہیں پڑھا جا سکتا 6 3
5 اَنصار کے متعلق خاص ہدایت 7 3
6 اِن ہی کو بیعت ِعقبہ کا شرف بھی حاصل ہے 7 3
7 جھوٹی نبیہ اَور جھوٹے نبی نے بیاہ رَچا لیا : 8 3
8 اَسّی برس کی عمر میں جہاد : 8 3
9 صحابہ اَور شوقِ جہاد:سات دِن بعد تدفین ،لاش خراب نہ ہوئی : 8 3
10 وفیات 9 1
11 علمی مضامین 10 1
12 اَنفَاسِ قدسیہ 15 1
13 اِسلامی سیاست 19 12
14 فتح مکہ کا سیاسی پس منظر 20 12
15 تربیت ِ اَولاد 21 1
16 لڑکیوں کو علمِ دین سکھانے اَور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت 21 15
17 گھر والوں کو دینی کتابیں سنانے کا معمول 22 15
18 اُمت ِمسلمہ کی مائیں 23 1
19 حضرت اُمِ حبیبہ رضی ا للہ تعالیٰ عنہا 23 18
20 ہجرت ِحبشہ 23 18
21 حرمِ نبوت میںآنا : 24 18
22 حبشہ سے مدینہ منورہ پہنچنا : 25 18
23 آنحضرت ۖ کا احترام 25 18
24 اتباعِ سنت : 26 18
25 فکر ِآخرت : 27 18
26 اِسلام کی اِنسانیت نوازی 28 1
27 اِسلامی مساوات 28 26
28 ظلم کی ممانعت : 30 26
29 بقیہ : حضرت اُم حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا 31 12
30 وفات : 31 12
31 گلد ستہ اَحادیث 32 1
32 توبہ نامہ 37 1
33 اَشعار اِقبال اَور حقیقت ِحال : 37 32
34 تمہید : 37 32
35 سفر نامہ ........ چھ دِن مراکش میں 48 1
36 مراکش کا مختصر تعارف : 49 35
37 ''مرکیش'' : 52 35
38 دینی مسائل 54 1
39 نعت النبی آقائے دو جہاں حتمی مرتبت ۖ 55 1
40 خانقاہ ِحامدیہ اَور رمضان المبارک 56 1
41 تقریظ وتنقید 58 1
42 اَخبار الجامعہ 62 1
Flag Counter