ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2010 |
اكستان |
|
عجم ہنوز نداند رموز دیں ورنہ نہ دیوبند حسین احمد ، اِیں چہ بوالعجبی است سرود بر سر منبر کہ ملت اَز وطن است چہ بے خبرز مقامِ محمد عربی است بمصطفےٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست اگر باو نرسیدی تمام بولہبی است اِن اشعار کی بنا پر ہندوستان کے علمی اَور دینی حلقوں میں ایک ہنگامہ برپا ہو گیا جس کی تفصیل اُس زمانے کے روزانہ اَور ہفتہ وار اَخباروں سے معلوم ہو سکتی ہے۔ خوش قسمتی سے ایک درد مند مسلمان نے جنہوں نے مصلحتاً ''طالوت'' کا نام اِختیار کر لیا تھا حقیقت حال دریافت کرنے کے لیے حضرت مدنی کی خدمت میں ایک خط لکھا جس کے جواب میں حضرت موصوف نے یہ خط اِنہیں لکھا : حضرت مدنی رحمة اللہ علیہ کا خط طالوت کے نام محترم المقام، زید مجدکم! السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ، مزاج مبارک والا نامہ باعث ِسر فرازی ہوا۔ میں آپ کی محبت کا شکر گزار ہوں، بالخصوص اِس بناء پر کہ باوجود عدم ملاقات اِس قدر اِلتفات فرماتے ہیں۔ میرے پاس بہت سے خطوط اِس کے متعلق آئے، مگر میں اِنتہائی درجے میں عدیم الفرصت ہوں اَور اِس قسم کے اِفتراآت اَور سب و شتم کا سیلاب کم و بیش اِس زمانے سے جبکہ میں نے تحریکات ِو طنیہ اَور مِلّیہ میں قدم اُٹھایا ہے، برابر جاری ہے۔ اِس لیے ایسی باتوں میں وقت صرف کرنا اِضاعتِ وقت سمجھتا ہوں اَور وَاِذَا خَاطَبَھُمُ الْجَاھِلُوْنَ (الآیة) پر عمل پیرا رہتاہوں۔ میں اِس وقت بھی چپ تھا مگر آپ کے والا نامے نے مجبور کیا کہ حقیقت واضح کی جائے اِس لیے باوجود عدیم الفرصتی مختلف اوقات میں لکھ کر مندرجہ ذیل مضمون پیش کرتا ہوں۔ ''اصل واقعہ یہ ہے کہ صدر بازار دہلی متصل پل بنگش زیر صدارت مولانا نور الدین