ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2010 |
¾اكستان Ù |
|
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی خدمت میں تین افراد آئے اُس وقت میں بھی آپ کی خدمت میں حاضر تھا اُن تینوں نے کہا کہ اے ابومحمد! بخدا ہم کسی چیز کی اِستطاعت نہیں رکھتے نہ تو نان نفقہ کی (کہ حج کو چلے جائیں) نہ کسی جانور کی (کہ جہاد میں شریک ہوسکیں) اَور نہ کسی دُوسرے سامان کی (کہ جس کو فروخت کرکے اپنے ضروری مصارف پورے کرسکیں) آپ نے یہ سُن کر فرمایا تم کیا چاہتے ہو؟ اگر تمہاری یہ خواہش ہے کہ میں تمہارے ساتھ معاونت کروں اَور تمہیں اپنے پاس سے کچھ دُوں تو تم لوگ پھر کسی وقت آنا میں تمہیں وہ چیز دُوں گا جسکا اللہ تمہارے لیے اِنتظام کردیگا (اِس وقت میرے پاس کچھ نہیں ہے) اَور اگر تم چاہو تو میں تمہاری حالت بادشاہ (حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ) سے بیان کردُوں (وہ تمہیں اپنی عطاء سے فارغ البال کردیں گے) اَور اگر تم چاہو تو صبر کرلو کیونکہ میں نے رسولِ اکرم ۖ سے سُنا ہے آپ فرمارہے تھے کہ فقراء مہاجرین قیامت کے دن جنت میں اَغنیاء (دولت مندوں) سے چالیس سال پہلے چلے جائیں گے۔ اُن تینوں نے (یہ حدیث سُنی تو) کہا کہ بیشک ہم صبر و اِستقامت کی راہ اِختیار کریں گے اَور آپ سے کچھ نہیں مانگتے۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ عَمْرٍو قَالَ بَیْنَمَا اَنَا قَاعِد فِی الْمَسْجِدِ وَحَلْقَة مِّنْ فُقَرَائِ الْمُھَاجِرِیْنَ قُعُوْد اِذْ دَخَلَ النَّبِیُّ ۖ فَقَعَدَ اِلَیْھِمْ فَقُمْتُ اِلَیْھِمْ فَقَالَ النَّبِیُّ ۖ لِیُبَشَّرْ فُقَرَائُ الْمُھَاجِرِیْنَ بِمَا یَسُرُّ وُجُوْھَھُمْ فَاِنَّھُمْ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْاَغْنِیَائِ بِاَرْبَعِیْنَ عَامًا، قَالَ فَلَقَدْ رَأَیْتُ اَلْوَانَھُمْ اِسْفَرَّتْ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو حَتّٰی تَمَنَّیْتُ اَنْ اَکُوْنَ مَعَھُمْ اَوْمِنْھُمْ ۔ (سننِ دارمی بحوالہ مشکٰوة ٤٤٨) حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ایک دِن میں مسجدِ نبوی شریف میں بیٹھا ہوا تھا اَور فقرا ء ِمہاجرین کی ایک جماعت بھی حلقہ باندھے بیٹھی تھی کہ اچانک نبی کریم ۖ تشریف لے آئے اَور فقراء کی طرف متوجہ ہوکر بیٹھ گئے، میں بھی اپنی جگہ سے اُٹھا