Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2010

¾اكستان Ù

34 - 64
فقراء اَغنیاء سے چالیس سال پہلے جنت میں چلے جائیں گے  : 
عَنْ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْحُبُلِّیِّ یَقُوْلُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَسَأَلَہ رَجُل فَقَالَ اَلَسْنَا مِنْ فُقَرَائِ الْمُھَاجِرِیْنَ فَقَالَ لَہ عَبْدُ اللّٰہِ اَلَکَ امْرَأَة تَاْوِیْ اِلَیْھَا قَالَ نَعَمْ ، قَالَ اَلَکَ مَسْکَن تَسْکُنُہ قَالَ نَعَمْ، قَالَ فَاَنْتَ مِنَ الْاَغْنِیَائِ قَالَ فَاِنَّ لِیْ خَادِمًا قَالَ فَاَنْتَ مِنَ الْمُلُوْکِ، قَالَ اَبُوْعَبْدِ الرَّحْمٰنِ وَجَائَ ثَلٰثَةُ نَفَرٍ اِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَاَنَا عِنْدَہ فَقَالُوْا لَہ یَااَبَامُحَمَّدٍ وَاللّٰہِ مَا نَقْدِرُ عَلٰی شَیْیٍٔ لَا نَفْقَةٍ وَلَا دَابَّةٍ وَلَامَتَاعٍ فَقَالَ لَھُمْ مَاشِئْتُمْ، اِنْ شِئْتُمْ رَجَعْتُمْ اِلَیْنَا فَاَعْطَیْنَاکُمْ مَایَسَّرَ اللّٰہُ لَکُمْ، وَاِنْ شِئْتُمْ ذَکَرْنَا اَمْرَکُمْ لِلسُّلْطَانِ، وَاِنْ شِئْتُمْ صَبَرْتُمْ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ۖ  یَقُوْلُ اِنَّ فُقَرَائَ الْمُھَاجِرِیْنَ یَسْبِقُوْنَ الْاَغْنِیَائَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِلَی الْجَنَّةِ بِاَرْبَعِیْنَ خَرِیْفًا قَالُوْا فَاِنَّا نَصْبِرُ لَانَسْأَلُ شَیْئًا۔
(مسلم ج ٢ ص ٤١٠ ، مشکٰوة ص٤٤٨) 
حضرت ابوعبد الرحمن حبلی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص    رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سُنا جبکہ ایک شخص نے اُن سے کچھ سوال کیا اَور کہا کہ کیا ہم (اُن) فقراء ِمہاجرین میں سے نہیں ہیں (جن کے بارے میں بشارت دی گئی ہے کہ وہ اَغنیاء سے پہلے جنت میں جائیں گے) آپ نے فرمایا کیا تمہاری بیوی ہے جس کے پاس تم سکون و قرار پاتے ہو؟ اُس شخص نے کہا کہ ہاں، آپ نے پوچھا کیا تمہارے پاس مکان ہے جس میں تم رہتے ہو؟ اُس نے کہا کہ ہاں، آپ نے فرمایا پھر تو تم اَغنیاء (دولت مندوں) میں سے ہو، وہ شخص (یہ سُن کر) بولا کہ میرا تو ایک خادم بھی ہے (یعنی غلام یا باندی)، اِس پر آپ نے فرمایا کہ تب تو تم بادشاہوں میں سے ہو (یعنی اِس صورت میں تو تمہارا شمار رئیسوں اَور بادشاہوں میں ہونا چاہیے نہ کہ فقراء میں)۔
 حضرت ابوعبد الرحمن نے (جو اِس حدیث کے راوی ہیں) یہ بھی بیان کیا کہ ایک دن
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 5 1
4 جمعہ دیہات میں نہیں پڑھا جا سکتا 6 3
5 اَنصار کے متعلق خاص ہدایت 7 3
6 اِن ہی کو بیعت ِعقبہ کا شرف بھی حاصل ہے 7 3
7 جھوٹی نبیہ اَور جھوٹے نبی نے بیاہ رَچا لیا : 8 3
8 اَسّی برس کی عمر میں جہاد : 8 3
9 صحابہ اَور شوقِ جہاد:سات دِن بعد تدفین ،لاش خراب نہ ہوئی : 8 3
10 وفیات 9 1
11 علمی مضامین 10 1
12 اَنفَاسِ قدسیہ 15 1
13 اِسلامی سیاست 19 12
14 فتح مکہ کا سیاسی پس منظر 20 12
15 تربیت ِ اَولاد 21 1
16 لڑکیوں کو علمِ دین سکھانے اَور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت 21 15
17 گھر والوں کو دینی کتابیں سنانے کا معمول 22 15
18 اُمت ِمسلمہ کی مائیں 23 1
19 حضرت اُمِ حبیبہ رضی ا للہ تعالیٰ عنہا 23 18
20 ہجرت ِحبشہ 23 18
21 حرمِ نبوت میںآنا : 24 18
22 حبشہ سے مدینہ منورہ پہنچنا : 25 18
23 آنحضرت ۖ کا احترام 25 18
24 اتباعِ سنت : 26 18
25 فکر ِآخرت : 27 18
26 اِسلام کی اِنسانیت نوازی 28 1
27 اِسلامی مساوات 28 26
28 ظلم کی ممانعت : 30 26
29 بقیہ : حضرت اُم حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا 31 12
30 وفات : 31 12
31 گلد ستہ اَحادیث 32 1
32 توبہ نامہ 37 1
33 اَشعار اِقبال اَور حقیقت ِحال : 37 32
34 تمہید : 37 32
35 سفر نامہ ........ چھ دِن مراکش میں 48 1
36 مراکش کا مختصر تعارف : 49 35
37 ''مرکیش'' : 52 35
38 دینی مسائل 54 1
39 نعت النبی آقائے دو جہاں حتمی مرتبت ۖ 55 1
40 خانقاہ ِحامدیہ اَور رمضان المبارک 56 1
41 تقریظ وتنقید 58 1
42 اَخبار الجامعہ 62 1
Flag Counter