ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2010 |
اكستان |
|
'' میرے اُوپر سات ایسے مشکیزے جنہیں کھولا نہ گیا ہو ڈالوشاید میں لوگوں کے پاس جا سکوں۔'' غزوہ ٔاُحدکے موقع پر اِرشاد فرمایا : فَلَمَّا رَأَتْ فَاطِمَةُ الدَّمَ یَزِیْدُ عَلَی الْمَائِ کَثْرَةً عَمِدَتْ اِلٰی حَصِیْرٍ فَاَحْرَقَتْھَا وَاَلْصَقَتْھَا عَلٰی جُرْحِ النَّبِیِّ ۖ فَرَقَأَ الدَّمُ۔(بخاری ص ٨٥٢) ''جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے دیکھاپانی سے خون بہنے میں اِضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے تو اُنہوں نے ایک چٹائی لے کر جلا ئی اَور اُسے جناب ِ رسول اللہ ۖ کے زخم پرلگایاتو خون رُک گیا۔'' اِرشاد فرما یا : اَلْحُمّٰی مِنْ فَیْحِ جَھَنَّمَ فَاَبْرِدُوْھَا بِالْمَائِ ۔ (بخاری شریف ص ٨٥٢) بخار جہنم کی جھونکار ہے اِسے پانی سے ٹھنڈا کرو۔ اِرشاد فرمایا : اِذَا سَمِعْتُمْ بِالطَّاعُوْنِ بِاَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوْھَا وَاِذَا وَقَعَ بِاَرْضٍ وَاَنْتُمْ بِھَا فَلَا تَخْرُجُوْا مِنْھَا۔(بخاری شریف ص ٨٥٣) جب تم کسی علاقہ میں طاعون کی خبر سنوتو وہاں کی سرزمین میں نہ داخل ہو اَور جب کسی سرزمین میں یہ پھیلے اَور تم وہاں ہو تو وہاں سے مت نکلو۔ بَابُ التَّدَاوِی بِالْحِنَّائِ (ترمذی ج ٢ ص ٢٦) عَنْ سَلْمٰی(خَادِمَةِ النَّبِیِّ ۖ ) قَالَتْ مَاکَانَ یَکُوْنُ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ۖ قَرْحَة وَّلَا نَکْبَة اِلَّا اَمَرَنِیْ اَنْ اَضَعَ عَلَیْھَا الْحِنَّائَ۔(مشکوة ٣٨٨) ''حضرت سلمٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے(جو رسول اللہ ۖ کی خادمہ تھیں ) روایت ہے اُنہوں نے فرمایا کہ جب بھی رسول اللہ ۖ کے زخم ہوتا یا چوٹ لگتی تو مجھے حکم فرماتے کہ اِس پر مہندی لگادُوں۔''