ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی2009 |
اكستان |
|
سفیان بن عیینہ کی آخری عبارت نظر سے اَوجھل رہی وہ یہ ہے ''وَجَزَمَ بْنُ صَلَاحٍ فِیْ عِلْمِ الْحَدِیْثِ بِاَنَّہ مَاتَ ثَمَانٍَ وَ تِسْعِیْنَ وَمِأَةٍ '' وَکَانَ انْتِقَالُہ مِنَ الْکُوْفَةِ اِلٰی مَکَّةَ ١٦٣ فَاسْتَمَرَّ بِہَا اِلٰی اَنْ مَاتَ ۔ حاشیہ میں ہے''فی التقریب وَلَہ اِحْدٰی وَتِسْعُوْنَ سَنَةً'' یعنی ١٦٣ ھ سے اپنی وفات ١٩٨ ھ تک٣٥ سال عمر کے آخری زمانے میں مکے ہی میں رہے۔اِسی لیے حافظ علوم حجاز قرار پائے لیکن ہشام سے یہ روایت تزوج یقیناً سفیان نے مکے میں نہیں سنی بلکہ کوفے ہی میں سنی کیونکہ ہشام بن عروہ کی وفات عراق میں ١٤٦ ھ میں ہوئی اور اُن کی وفات کے سترہ سال بعد ١٦٣ھ میں سفیان مکے میں آکر سکونت پزیر ہوئے۔ آپ کے آخری پیرے ''میرا مقصد یہ ہے کہ ..... الی آخرہ'' میں جو آپ نے فرمایا واقعہ کے لحاظ سے دُرست نہیں ۔آپ نے یہ فرمایا:''حضرت عائشہ کی ہر روایت تزوج اپنی جگہ اَصل ہے اور ان سے سننے والے ایک دُوسرے کے متابع نہیں ہوسکتے ' ' ۔آپ کا یہ انداز ِ بیان مغالطہ آمیز ہے صورت یہ ہے کہ مختلف کتب ِ حدیث میں مختلف اسناد سے روایت ِ تزوج مذکور ہے۔ ہم نے تتبع سے اُنہیں جمع کر لیا اور آخر میں سب کو جمع کر کے ہم نے دیکھا کہ سب روایتوں میں کثیر تعداد اَسناد کے بعد صرف تین چار راوی اُن سے براہ ِ راست روایت ِ تزوج بیان کرتے ہیں۔ روایت ِ ہشام بن عروہ ہشام سے بیان کر نے والے مثلاً : (مسلم میں)عائشہ عروہہشام ابو اُسامہ کوفی ابو معاویہ کوفی ابن نمیر کوفی عبدہ کوفی