Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی2009

اكستان

20 - 64
سفیان بن عیینہ کی آخری عبارت نظر سے اَوجھل رہی وہ یہ ہے ''وَجَزَمَ بْنُ صَلَاحٍ فِیْ عِلْمِ الْحَدِیْثِ   بِاَنَّہ مَاتَ ثَمَانٍَ وَ تِسْعِیْنَ وَمِأَةٍ '' وَکَانَ انْتِقَالُہ مِنَ الْکُوْفَةِ اِلٰی مَکَّةَ   ١٦٣   فَاسْتَمَرَّ بِہَا  اِلٰی اَنْ مَاتَ ۔
حاشیہ میں ہے''فی التقریب وَلَہ اِحْدٰی وَتِسْعُوْنَ سَنَةً''  یعنی  ١٦٣ ھ سے اپنی وفات   ١٩٨  ھ  تک٣٥ سال عمر کے آخری زمانے میں مکے ہی میں رہے۔اِسی لیے حافظ علوم حجاز قرار پائے لیکن ہشام سے یہ روایت تزوج یقیناً سفیان نے مکے میں نہیں سنی بلکہ کوفے ہی میں سنی کیونکہ ہشام بن عروہ کی وفات عراق میں  ١٤٦  ھ  میں ہوئی اور اُن کی وفات کے سترہ سال بعد  ١٦٣ھ میں سفیان مکے میں آکر سکونت پزیر ہوئے۔ 
آپ کے آخری پیرے ''میرا مقصد یہ ہے کہ  .....  الی آخرہ'' میں جو آپ نے فرمایا واقعہ کے لحاظ سے دُرست نہیں ۔آپ نے یہ فرمایا:''حضرت عائشہ کی ہر روایت تزوج اپنی جگہ اَصل ہے اور ان سے سننے والے ایک دُوسرے کے متابع نہیں ہوسکتے ' ' ۔آپ کا یہ انداز ِ بیان مغالطہ آمیز ہے صورت یہ ہے کہ مختلف کتب ِ حدیث میں مختلف اسناد سے روایت ِ تزوج مذکور ہے۔ ہم نے تتبع سے اُنہیں جمع کر لیا اور آخر میں سب کو جمع کر کے ہم نے دیکھا کہ سب روایتوں میں کثیر تعداد اَسناد کے بعد صرف تین چار راوی اُن سے براہ ِ راست روایت ِ تزوج بیان کرتے ہیں۔ روایت ِ ہشام بن عروہ ہشام سے بیان کر نے والے مثلاً :
(مسلم میں)عائشہ عروہہشام
ابو اُسامہ کوفی       ابو معاویہ کوفی             ابن نمیر کوفی        عبدہ کوفی 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 6 1
4 جو مانگے گا بعینہ وہی قبول ہو گا : 7 3
5 قبولیت کی ساعت کسی کسی کو اَور رات کی فضیلت ہر کسی کو مل سکتی ہے : 7 3
6 سب سے بڑا خوش قسمت : 8 3
7 سب سے بڑا خوش قسمت : 8 3
8 کس کی دُعا زیادہ اچھی تھی ؟ : 8 3
9 ملفوظات شیخ الاسلام 10 1
10 حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی 10 9
11 حضرت عائشہ کی عمر اور حکیم نیاز احمد صاحب کا مغالطہ 14 1
12 وضاحت : 23 11
13 مصعب بن سعد عن عائشہ : 24 11
14 روایت عبداللہ بن عروہ عن عائشہ : 24 11
15 عَبْدُ الْمَلِکْ بِنْ عُمَیْرْ عَنْ عَائِشَہْ : 27 11
16 اُمت ِمسلمہ کی مائیں 30 1
17 حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا 30 16
18 حضرت عائشہ نے مصاحبت ِ رسول ۖ سے خوب فائدہ اُٹھایا : 30 16
19 آنحضرت ۖ سے سوالات : 30 16
20 تربیت ِ اَولاد 34 1
21 اَولاد کی وجہ سے ہزاروں فکریں اور جھمیلے : 34 20
22 جن کے اَولاد نہ ہوتی ہو اُن کی تسلی کے لیے عجیب مضمون : 35 20
23 (١) سلام میں تخصیص : 37 20
24 (٢) تجارت میں عورتوں کی شرکت : 38 20
25 (٣) قطع رحمی : 39 20
26 (٤) جھوٹی گواہی : 41 20
27 (٥) سچی گواہی کو چھپانا : 41 20
28 (٦) دین سے ناواقفیت : 42 20
29 آیت خاتم النبییّن اَور اَکابر ِ اُمت 44 1
30 گلدستہ ٔ اَحادیث 46 1
31 چھ اَفراد جن پر اللہ اور اللہ کے رسول ۖ لعنت فرماتے ہیں : 47 30
32 قطع رحمی ....... قرآن وسنت کی روشنی میں 48 1
33 قطع رحمی کی صورتیں : 48 32
34 قطع رحمی کے اسباب : 50 32
35 قطع رحمی کے مختلف اسباب ہیں : 50 32
36 ( دینی مسائل ) 56 1
37 کسی شرط پر طلاق دینے کا بیان : 56 36
38 بقیہ : آیت خاتم النبےّین اور اکابر اُمت 58 29
39 وفیات 59 1
40 اَخبار الجامعہ 60 1
41 سفر نامہ 61 1
Flag Counter