Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی2009

اكستان

23 - 64
صحاح ِستہ میں سے بخاری میں   ٢٥٦  تک یہی روایت سامنے آئی ۔ پھر مسلم میں اُس کے ساتھ ابومعاویہ سے اَسود کی روایت بھی  ٢٦١   میں آئی۔ یہ بھی ملحوظ ِخاطر رہے کہ مسلم نے ابو بکر سے پندرہ سو روایتیں بیان کی ہیں ،روایت ِ تزوج بھی انہوں نے ابوبکرسے لی ہے مگر ہشام والی روایت کو قبول کیا اور ابو بکر کی اَسود والی روایت کو اُن سے نہیں لیا ۔ مسلم کے سامنے ابو بکر کی دونوں روایتیں تھیں: ابوبکر،ابو اُسامہ،ہشام، عروہ اَورابو بکر، ابو معاویہ ، اعمش،ابراہیم اور اَسود۔ امام مسلم نے پہلی روایت کو منتخب کیا اور اَسود کی روایت ابومعاویہ سے دُوسرے راوی سے قبول کی حالانکہ مصنف ابن ابی شیبہ اُن کے سا منے تھی اور آپ کے بقول اُس میں صرف ابومعاویہ کی روایت ہے اُسے مسلم نے اِن سے قبول نہیں کیا۔
واقعے کے لحاظ سے کتاب الام کی روایت ہشام کے بعد مصنف ابو بکر میں ابو معاویہ اَسود والی روایت سامنے آئی پھر مسند ِ امام احمد میں روایت ِ ہشام اور روایت ِ اَسود مذکور ہیں۔ اِس لحاظ سے صرف دو سندیں معتبر ہوئیں  :  روایت ِ ہشام  اور  روایت ِ اعمش۔ 
محدثین کے ہاں سند ِ عالی کا بڑا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ثنائیات ، ثلاثیات ،رُباعیات وغیرہ۔ بخاری کی ثلاثیات کو خاص اہمیت دی جاتی ہے سند ِ نازل کے مقابلے میں سند ِ عالی کو۔ بشرطیکہ کوئی راوی مجروح نہ ہو۔ ترجیح دی جائے گی۔ 
طبقۂ ثانیہ میں جہاں یہ روایت شہرت کو پہنچی ہشام کی سند عالی ہے اور اَسود کی سند نازل ہے۔ مثلاً ابومعاویہ، ہشام ،عروہ، عائشہ ۔ ابو معاویہ، اعمش، ابراہیم، اسود، عائشہ۔ پہلی روایت میں حضرت عائشہ تک ایک واسطہ کم ہے اور دُوسری میں ایک راوی زیادہ ہے۔ 
وضاحت : 
 (مسلم ) اَبُوْبَکَرْ ، اَبُوْاُسَامَہْ، ہِشَامْ ، عُرْوَہْ ، عَائِشَةَ ۔
(مسلم) اَبُوْکُرَیْبْ ، اَبُوْمُعَاوِیَہْ ، اَعْمَشْ ، اِبْرَاہِیْمْ ، اَسْوَدْ ، عَائِشَةَ  ۔
غرض سب کے قبول کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ سند عالی ہے اور اَسود والی روایت کی سند  نازل ہے ۔دُوسری وجہ اَسود والی روایت کے ابراہیم کے نیچے کے بعض راوی مجروح ہیں۔ امام شافعی سے ٢٠٤ سے لے کر نسائی ٢٧٣  دو روایتیں مروی ہیں  :  ایک اعلی ہشام والی  اَور  دُوسری اَدنی اَسود والی۔ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 6 1
4 جو مانگے گا بعینہ وہی قبول ہو گا : 7 3
5 قبولیت کی ساعت کسی کسی کو اَور رات کی فضیلت ہر کسی کو مل سکتی ہے : 7 3
6 سب سے بڑا خوش قسمت : 8 3
7 سب سے بڑا خوش قسمت : 8 3
8 کس کی دُعا زیادہ اچھی تھی ؟ : 8 3
9 ملفوظات شیخ الاسلام 10 1
10 حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی 10 9
11 حضرت عائشہ کی عمر اور حکیم نیاز احمد صاحب کا مغالطہ 14 1
12 وضاحت : 23 11
13 مصعب بن سعد عن عائشہ : 24 11
14 روایت عبداللہ بن عروہ عن عائشہ : 24 11
15 عَبْدُ الْمَلِکْ بِنْ عُمَیْرْ عَنْ عَائِشَہْ : 27 11
16 اُمت ِمسلمہ کی مائیں 30 1
17 حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا 30 16
18 حضرت عائشہ نے مصاحبت ِ رسول ۖ سے خوب فائدہ اُٹھایا : 30 16
19 آنحضرت ۖ سے سوالات : 30 16
20 تربیت ِ اَولاد 34 1
21 اَولاد کی وجہ سے ہزاروں فکریں اور جھمیلے : 34 20
22 جن کے اَولاد نہ ہوتی ہو اُن کی تسلی کے لیے عجیب مضمون : 35 20
23 (١) سلام میں تخصیص : 37 20
24 (٢) تجارت میں عورتوں کی شرکت : 38 20
25 (٣) قطع رحمی : 39 20
26 (٤) جھوٹی گواہی : 41 20
27 (٥) سچی گواہی کو چھپانا : 41 20
28 (٦) دین سے ناواقفیت : 42 20
29 آیت خاتم النبییّن اَور اَکابر ِ اُمت 44 1
30 گلدستہ ٔ اَحادیث 46 1
31 چھ اَفراد جن پر اللہ اور اللہ کے رسول ۖ لعنت فرماتے ہیں : 47 30
32 قطع رحمی ....... قرآن وسنت کی روشنی میں 48 1
33 قطع رحمی کی صورتیں : 48 32
34 قطع رحمی کے اسباب : 50 32
35 قطع رحمی کے مختلف اسباب ہیں : 50 32
36 ( دینی مسائل ) 56 1
37 کسی شرط پر طلاق دینے کا بیان : 56 36
38 بقیہ : آیت خاتم النبےّین اور اکابر اُمت 58 29
39 وفیات 59 1
40 اَخبار الجامعہ 60 1
41 سفر نامہ 61 1
Flag Counter