ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی2009 |
اكستان |
|
صحاح ِستہ میں سے بخاری میں ٢٥٦ تک یہی روایت سامنے آئی ۔ پھر مسلم میں اُس کے ساتھ ابومعاویہ سے اَسود کی روایت بھی ٢٦١ میں آئی۔ یہ بھی ملحوظ ِخاطر رہے کہ مسلم نے ابو بکر سے پندرہ سو روایتیں بیان کی ہیں ،روایت ِ تزوج بھی انہوں نے ابوبکرسے لی ہے مگر ہشام والی روایت کو قبول کیا اور ابو بکر کی اَسود والی روایت کو اُن سے نہیں لیا ۔ مسلم کے سامنے ابو بکر کی دونوں روایتیں تھیں: ابوبکر،ابو اُسامہ،ہشام، عروہ اَورابو بکر، ابو معاویہ ، اعمش،ابراہیم اور اَسود۔ امام مسلم نے پہلی روایت کو منتخب کیا اور اَسود کی روایت ابومعاویہ سے دُوسرے راوی سے قبول کی حالانکہ مصنف ابن ابی شیبہ اُن کے سا منے تھی اور آپ کے بقول اُس میں صرف ابومعاویہ کی روایت ہے اُسے مسلم نے اِن سے قبول نہیں کیا۔ واقعے کے لحاظ سے کتاب الام کی روایت ہشام کے بعد مصنف ابو بکر میں ابو معاویہ اَسود والی روایت سامنے آئی پھر مسند ِ امام احمد میں روایت ِ ہشام اور روایت ِ اَسود مذکور ہیں۔ اِس لحاظ سے صرف دو سندیں معتبر ہوئیں : روایت ِ ہشام اور روایت ِ اعمش۔ محدثین کے ہاں سند ِ عالی کا بڑا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ثنائیات ، ثلاثیات ،رُباعیات وغیرہ۔ بخاری کی ثلاثیات کو خاص اہمیت دی جاتی ہے سند ِ نازل کے مقابلے میں سند ِ عالی کو۔ بشرطیکہ کوئی راوی مجروح نہ ہو۔ ترجیح دی جائے گی۔ طبقۂ ثانیہ میں جہاں یہ روایت شہرت کو پہنچی ہشام کی سند عالی ہے اور اَسود کی سند نازل ہے۔ مثلاً ابومعاویہ، ہشام ،عروہ، عائشہ ۔ ابو معاویہ، اعمش، ابراہیم، اسود، عائشہ۔ پہلی روایت میں حضرت عائشہ تک ایک واسطہ کم ہے اور دُوسری میں ایک راوی زیادہ ہے۔ وضاحت : (مسلم ) اَبُوْبَکَرْ ، اَبُوْاُسَامَہْ، ہِشَامْ ، عُرْوَہْ ، عَائِشَةَ ۔ (مسلم) اَبُوْکُرَیْبْ ، اَبُوْمُعَاوِیَہْ ، اَعْمَشْ ، اِبْرَاہِیْمْ ، اَسْوَدْ ، عَائِشَةَ ۔ غرض سب کے قبول کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ سند عالی ہے اور اَسود والی روایت کی سند نازل ہے ۔دُوسری وجہ اَسود والی روایت کے ابراہیم کے نیچے کے بعض راوی مجروح ہیں۔ امام شافعی سے ٢٠٤ سے لے کر نسائی ٢٧٣ دو روایتیں مروی ہیں : ایک اعلی ہشام والی اَور دُوسری اَدنی اَسود والی۔