ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی2009 |
اكستان |
|
نے تعلیم کے لیے مکے بھیج دیا تھا کیا اِس سے وہ مکی بن گئے؟ جن دو شیوخ سے سماع کیا ہے اُن میں سے ایک عمر بن دینار بصری ہیں معلوم نہیں اُن سے مکے میں سنا یا بصرے میں۔ شعبہ اور خود ابن عیینہ کی عبارات سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ ''بچپن میں علم حاصل کرنا شروع کردیا تھا'' اور ''عمر بن دینار اور زہری کے علوم کے ماہر ہیں '' یہ بات بھی قابل ِ غور ہے کہ عمر بن دینار بصری اور زہری ٨٠ میں شام چلے گئے تھے اور آخر تک شام ہی میں رہے۔ اُن کی وفات بھی اُن کی جاگیر میں ہوئی جو حجاز اور فلسطین کی سرحد پر ہے وہیں سڑک کے کنارے دفن ہوئے۔ جو عبد الملک بن مروان کی اولاد کے اتالیق بن گئے تھے۔ ولید بن عبدالملک، سلیمان بن عبد الملک ،یزید بن عبد الملک، ہشام بن عبدالملک ،ولید بن یزید وغیرہ سب اِنہی زہری کے تلامیذ ِ ملوک ہیں۔ زیادہ سے زیادہ عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ بچپن میں شام گئے اور بصرے گئے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ عیینہ جاہل اور امیر آدمی تھے۔ اپنے بیٹے کو سونے کے بُندے پہنائے ہوئے تھے اور بڑی عمر تک پہنائے رکھے تھے۔ خود ابن عیینہ، باوجود علم الروایہ حاصل کرنے کے سمجھ بوجھ سے عاری تھے۔ اور اُس دَور کے استاتذہ خصوصیت سے زہری اور عمر بن دینار دُنیادارعالم تھے کہ اُنہوں نے تلمیذ کو سونا پہننے اور زُلفیں بنانے سے نہ روکا۔ جس روایت سے اتنے مفاسد لازم آتے ہوں ضروری ہے ہم اُس پر غور کریں۔ غرض سفیان کوفی تھے کوفے میں اُن کا مکان تھا۔ اُن کے والد کوفے کے متموّل آدمی تھے۔ ابن عیینہ اپنی عمر کے ٥٣ سال کوفے میں رہے۔ یہ روایت ہشام بن عروہ اُنہوںنے کوفے میں سنی۔ جب سفیان کے طبقۂ ثانیہ میں ٨ اور حفاظ حدیث کوفی ہیں اور اِس روایت ِ ہشام کے براہ ِ راست راوی میں نویں یہ سفیان بھی ہیں۔ اور اِسی طبقۂ ثانیہ کے چار حفاظ ِ حدیث اور بصرہ سے اِس روایت ِ ہشام کے براہ ِ راست راوی ہیں۔ اَصل میں تو روایت ہشام بن عروہ کو اِن ١٣ رُواة حفاظِ کوفی وبصری نے مشہور بنایا ہے۔ ورنہ اِس سے پہلے تو خبر ِ واحد تھی۔ میں دُوسرے مقدمے میں اِس پر مفصل بحث کروں گا کہ رُواة ہشام بن عروہ جنہوں نے یہ روایت اُن سے کوفے وبصرے میں سنی اُن میں سفیان بن عیینہ بھی ہیں۔ مجھے تعجب ہے کہ آپ نے جوش واِستدلال میں سفیان بن عیینہ کو بچپن سے مکی ثابت کرنے کے لیے ناکافی مواد کو کافی خیال فرمایا اور پہلی عبارت کو چھوڑ کر تمریض کے صیغے قیل سے استناد کیا۔ تہذیب التہذیب