ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی2009 |
¾اكستان Ù |
|
ترجمانی کرنے والے کون ہیں؟ اور اگر اُس میں سے تُرِےْدُ دَخَلَ بِیْ کو نکال دیا جا ئے تو اِس روایت کا مطلب ہے کہ ٩سال کی عمر میں نکاح کیا اور ٩ سال آپ کے پاس رہیں۔ یعنی ٢ہجری میں نکاح کیا تو یہ ایسے مضمون کی روایت ہے جو سب سے الگ ہے اَسود کی معروف روایت کے خلاف ہے۔ اِس حالت میں یہ کسی کی بھی متابع نہیں ہے۔ سفیان بن عیینہ کے بارے میں آپ نے جو طویل بحث فرمائی ہے وہ غیر متعلق ہے مگر چونکہ غیر واقعی بھی ہے اور توہین ابن عیینہ اور توہین عیینہ پر مشتمل ہے۔ اِس لیے عرض ہے۔ ''آپ نے خود فرما دیا کہ سفیان تعلماً وتعلیماً غیر کوفی ہیں اور ابتدا ء ہی سے وہ کوفے سے چلے گئے تھے اِس لیے وہ مکی ہیں اور سند امام شافعی کی روایت مکی ہے کوفی نہیں ہے اور سفیان کا اِس روایت کو مدینہ میں سننا راجح ہے۔ '' رواة کے متعلق کتب ِ رجال میں مختلف قسم کے اقوال درج ہوتے ہیں۔ صورت یہ ہوتی ہے کہ ہر شخص اپنی مفید مطلب عبارتیں اَخذ کر لیتا ہے اور باقی کو ترک کردیتا ہے الاماشاء اللہ ۔ آپ نے بھی اِسی پر عمل کیا ۔ تہذیب التہذیب رقم ٢٠٥ ''سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَةَ بْنِ اَبِیْ عِمْرَانَ مَیْمُوْنِ الْہِلَالِیُّ اَبُوْ مُحَمَّدِ نِ الْکُوْفِیُّ سَکَنَ مَکَّةَ وَقِیْلَ اِنَّ اَبَاہُ عُیَیْنَةُ ہُوَالْمَکِّیُّ اَبَا عِمْرَانَ '' اِس عبارت میں یہ صراحت ہے کہ سفیان کوفی ہیں پھر مکے میں سکونت اختیار کر لی تھی پھر صیغۂ تمریض قیل سے بیان کہ عیینہ مکی تھے ابن عیینہ کے متعلق مکی ہونے کا صیغہ تمریض سے بھی ذکر نہیں کیا۔ آپ نے پہلی عبارت چھوڑ دی قیل سے جملہ نقل کیا اَور ثابت یہ کیا کہ وہ مکی ہیں یہ کونسا اِستدلال ہے؟ تہذ یب کی باقی عبارتوں سے مجھے کوئی تعرض نہیں کیونکہ اُن میں یہ ہے کہ زہری کے علوم کے سفیان ماہر ہیں اور عمر بن دینار کے علوم کے ماہر ہیں اور حجاز کی روایات کے محافظ ہیں۔اِن عبارات سے اُن کے کوفی ہونے کی نفی نہیں ہوتی۔ تذکرة الحفاظ سے جو روایات نقل فرمائی ہیں اُس میں ہے ''طَلَبَ الْعِلْمَ فِیْ صِغَرِہ'' اِس سے کیسے معلوم ہوگیا کہ وہ کوفی نہیں تھے۔''وہ حجاز کے علوم کے ماہر تھے '' اِس سے کسے اِنکار ہے مگر اِس سے کیسے ثابت ہوا کہ وہ مکی تھے کوفی نہیں تھے۔ کفایہ نے جو عبارت امام احمد سے نقل کی ہے وہ ہے ''اَخْرَجَہ اَبُوْہُ اِلٰی مَکَّةَ وَھُوَ صَغِیْر فَسَمِعَ مِنَ النَّاسِ عَمْرَو بْنَ دِیْنَارٍ وَابْنَ اَبِیْ '' اِس سے اِتنا معلوم ہوا کہ بچپن میں اُنہیں اُن کے والد