ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی2009 |
¾اكستان Ù |
|
روایت ِ اسود سے چند سطریں اُوپر بغیر کسی حوالے کے حضرت عائشہ کے نکاح کا قصّہ بیان کیا ہے اور اپنے اِس بیان کو اِس روایت سے مؤید کرنے کی کوشش کی لیکن جرح وتعدیل کے نقطۂ نظر سے یہ روایت ساقط الاعتبار ہے۔ ایک متابع روایت کے اَور متابع ہونے کے تو کوئی معنی ہی نہیں ہیں۔ خود متابع ابو معاویہ میں بھی یہ سکت نہیں کہ اِس باب میں اکیلی سند کافی ہوسکے۔ ابو معاویہ نے بھی دونوں روایتیں اکٹھی بیان کی ہیں یعنی ہشام کی روایت کو بھی بیان کیا اور اعمش کی روایت کو بھی بیان کیا۔ مگر ہشام کی روایت کو اِسی طبقۂ ثانیہ کے آٹھ اور کوفی حفاظ بھی بیان کرتے ہیں۔ اِس لحاظ سے روایت ِ ہشام اُن کے دور میں مشہور ہوچکی تھی اور روایت ِ اعمش کو اپنے طبقے میں وہ اکیلے بیان کر نے والے ہیں اِس لیے بعد کے محدثین نے اسے بطور ِ متابع قبول کر لیا ابو بکر نے اپنی کتاب مصنف میں اگر صرف یہ روایت لی ہے تو اُس کی پشت پر بھی ہشام کی مشہور روایت ہے کیونکہ ابو بکر خود بھی روایت ِ ہشام کے راوی ہیں جیسا کہ مسلم میں ہے۔ نیز اُن کے دور میں یہ روایت مشہور ہوچکی تھی۔ یہ شہرت کے وجہ سے ثبوت سند سے مستغنی ہوچکی تھی۔ اس کی شہرت کا پختہ ثبوت تو طبقۂ ثانیہ کے ١٢ کوفی وبصری حفاظ نے پیش کردیا تھا اِس لیے ناقص سند سے پیش کردینا بھی کافی تھا۔ اَب خاص طورپر اِس سند کے متعلق یہ عرض کہ خود ابن قتیبہ محدث نہیں ہیں نقد حدیث سے نابلد ہیں۔ ابو الخطاب بصری ۔ ان کی وفات اور اِن کے شیخ کی وفات میں کم اَز کم ٥٥ سال کا فرق ہے تو سماع میں بھی اتنا فرق ہے۔ دیکھئے تہذیب۔ معلوم نہیں کیا کہا کیا یاد رکھا۔ ٣۔ مالک بن سعید خود قابل ِ برداشت راوی ہیں۔ بخاری میں متابعة ً شاید کوئی روایت آتی ہو۔ ٤۔ یہ روایت اسود صحاح خمسہ میں اعمش تک عنعنِ سے ہے اور ابو معاویہ سے حدثنا اور اخبرنا سے ہے۔ آپ نے جو ابن ِ سعد سے واقدی کا متابع لکھا ہے اُس میں بھی عن الاعمش ہے۔ مگر اِس روایت ِ ابن ِقتیبہ میں حدثنا عن الاعمش ہے یا ابن قتیبہ نے غلطی کی یا اُن سے اُوپر کے رایوں میں سے کسی نے غلطی کی ہے۔ پھر الفاظ ِ روایت پر غور فرمائیے۔ '' تَزَوَّجَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ۖ وَاَنَا بِنْتُ تِسْعَ سِنِیْنَ تُرِیْدُ دَخَلَ بِیْ وَکُنْتُ عِنْدَہ تِسْعًا '' یہ تُرِےْدُ دَخَلَ بِیْ کہنے والے کون سے راوی ہیں۔کیونکہ جو روایت صحاح میں منقول ہے اُس میں تو یہ الفاظ نہیں ہیں۔ دُوسری کتابوں کی روایات میں بھی نہیں ہیں۔پھر یہ حضرت عائشہ کے