Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی2009

¾اكستان Ù

16 - 64
قَالَ بَنْدَار ''مَا رَأَیْتُ اَکْذَبَ مِنْہُ'' ۔ 
قَالَ اِسْحٰقُ ابْنُ رَاہْوَیْہِ '' وَھُوَ عِنْدِیْ مِمَّنْ یَّضَعُ '' قَالَ الشَّافِعِیُّ '' کَانَ بِالْمَدِیْنَةِ سَبْعُ رِجَالٍ یَضَعُوْنَ الْاَسَانِیْدَ اَحَدَھُمُ الْوَاقِدِیُّ ''۔
اَبُوْزُرْعَةَ '' مَتْرُوْکُ الْحَدِیْثِ '' اَبُوْحَاتِمٍ '' کَانَ یَضَعُ''   قَالَ الذَّھْبِیُّ ''اِسْتَقَرَّ الْاِجْمَاعُ عَلٰی وَھْنِ الْوَاقِدِیِّ ''۔ 
 واقدی اِس قسم کی وضع کا ماہر ہے اور دُوسرے رُواة بھی اِس پر عمل کرتے ہیں یہ اسرائیل عن الاعمش سے اِس مضمون ِ روایت ِ ہشام کو متعلق کرنا واقدی کا کام ہے۔اِس لیے میں نے اِس روایت کو درخور اعتناء خیال نہیں کیا۔ 
عرض یہ ہے کہ وہ سند جسے آپ متابع روایت ابو معاویہ فرمارہے ۔ابو معاویہ عن الاعمش ایسی سند  نہیں ہے کہ تنہا روایت ِ تزوج کے ثبوت کے بار کو برداشت کر سکے۔ یہ صفت روایت ِ ہشام میں ہے۔ صحاح کے مصنفین کا انداز ِ بیاں اِس کا مظہر ہے۔ اسی طرح ابو عبیدہ کی روایت تنہا اِس بار ِ ثبوت کو برداشت نہیں کر سکتی  کوفے میں طبقۂ ثانیہ تک اِن روایتوں کی عدم ِ مقبولیت اِس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 
اصل اَور متابع میں یہی فرق ہے کہ اصل میں اکیلی سند کافی ہے اور متابع میں اکیلی سند کافی نہیں ہوتی۔ بخاری کے نزدیک بہت سے راوی ایسے ہیں کہ اُن سے اصل میں روایت نہیں لیتے متابعةً لے آتے ہیں۔ آپ فرمائیں گے تو مثالیں بھی لکھ دُوں گا۔ 
روایات میں متابع دوم روایت ابو معاویہ عن الا عمش معارف ص ٥٩....... مہر بانی فرماکر معارف کا یہ صفحہ سامنے رکھ کر میری گزارشات پر غور فرمائیں۔ 
اِس روایت کے پہلے راوی ابو محمد عبد اللہ بن مسلم بن قتیبہ رجال ِ حدیث میں سے نہیں ہیں ۔ کتب ِ رجال میں اُن کا تذکرہ نہیں ہے۔ یہ تاریخی کتاب ہے اور یہ معلوم ہے کہ تاریخی روایات کی اتنی چھان بین نہیں ہوتی۔ تاریخ میں دُوسرے اور تیسرے درجے کی روایات کو عام طور پر قبول کر لیا جاتا ہے۔ یہ روایتیں محدثین کی کڑی جرح وتعدیل کی متحمل نہیں ہوسکتیں اِس لیے اِن میں تسامح سے کام لیا جا تا ہے۔
ابن ِقتیبہ کے دور میں روایت ِ تزوج مشہور ہو چکی تھی بغیر حوالے کے بھی ذکر کرنا کافی تھا چنانچہ اِس
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 6 1
4 جو مانگے گا بعینہ وہی قبول ہو گا : 7 3
5 قبولیت کی ساعت کسی کسی کو اَور رات کی فضیلت ہر کسی کو مل سکتی ہے : 7 3
6 سب سے بڑا خوش قسمت : 8 3
7 سب سے بڑا خوش قسمت : 8 3
8 کس کی دُعا زیادہ اچھی تھی ؟ : 8 3
9 ملفوظات شیخ الاسلام 10 1
10 حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی 10 9
11 حضرت عائشہ کی عمر اور حکیم نیاز احمد صاحب کا مغالطہ 14 1
12 وضاحت : 23 11
13 مصعب بن سعد عن عائشہ : 24 11
14 روایت عبداللہ بن عروہ عن عائشہ : 24 11
15 عَبْدُ الْمَلِکْ بِنْ عُمَیْرْ عَنْ عَائِشَہْ : 27 11
16 اُمت ِمسلمہ کی مائیں 30 1
17 حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا 30 16
18 حضرت عائشہ نے مصاحبت ِ رسول ۖ سے خوب فائدہ اُٹھایا : 30 16
19 آنحضرت ۖ سے سوالات : 30 16
20 تربیت ِ اَولاد 34 1
21 اَولاد کی وجہ سے ہزاروں فکریں اور جھمیلے : 34 20
22 جن کے اَولاد نہ ہوتی ہو اُن کی تسلی کے لیے عجیب مضمون : 35 20
23 (١) سلام میں تخصیص : 37 20
24 (٢) تجارت میں عورتوں کی شرکت : 38 20
25 (٣) قطع رحمی : 39 20
26 (٤) جھوٹی گواہی : 41 20
27 (٥) سچی گواہی کو چھپانا : 41 20
28 (٦) دین سے ناواقفیت : 42 20
29 آیت خاتم النبییّن اَور اَکابر ِ اُمت 44 1
30 گلدستہ ٔ اَحادیث 46 1
31 چھ اَفراد جن پر اللہ اور اللہ کے رسول ۖ لعنت فرماتے ہیں : 47 30
32 قطع رحمی ....... قرآن وسنت کی روشنی میں 48 1
33 قطع رحمی کی صورتیں : 48 32
34 قطع رحمی کے اسباب : 50 32
35 قطع رحمی کے مختلف اسباب ہیں : 50 32
36 ( دینی مسائل ) 56 1
37 کسی شرط پر طلاق دینے کا بیان : 56 36
38 بقیہ : آیت خاتم النبےّین اور اکابر اُمت 58 29
39 وفیات 59 1
40 اَخبار الجامعہ 60 1
41 سفر نامہ 61 1
Flag Counter