Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2008

¾اكستان Ù

38 - 64
ہے جوجیب میں ہو، جو پیسہ بنک میں ہو یا جو پیسہ گھر میں ہو معلوم نہیں وقت پروہاں تک جانا ہوگا یا نہیں ہوگا، اپنا مال وہی سمجھیں جو جیب میں ہے اَور اپنا علم وہی سمجھیں جو زبان پر ہو ۔جب سے یہ رواج پیدا ہوگیا کہ علم کا  بوجھ دماغ پر نہیں اَوراق پر ڈالتے ہیں تو یہ حافظے کمزور ہونے شروع ہوگئے اَورپھر جب کوئی سوال آئے سامنے تو اُس کے جواب میں پھر ڈھونڈیں کہ کس کاغذ پر لکھا تھا کس کاغذ پر نہیں لکھا تھا اِس کی بجائے اللہ تبارک وتعالیٰ کی حقیقی نصرت کو پکاریں اللہ تعالیٰ فضل کرتا ہے اَور ہم نے بارہا اِن قوموں کا مقابلہ کرتے ہوئے اللہ کی  نصرت کو اِس طرح اُترتے دیکھا جس طرح آپ بارش کے وقت قطروں کو اُترتا ہوا دیکھتے ہیں،اللہ تبارک وتعالیٰ فضل کرتا ہے ۔
تو اِس وقت صرف یہ بات کہنی مقصود ہے کہ اِیمان سب سے قیمتی چیز ہے اِس کے برابر اَور کوئی چیز نہیں ۔تو ہم سے بعض اوقات طلباء سوال کرتے ہیں کہ ہم نے نیک اعمال تو بڑے بڑے کافروں کو بھی کرتے دیکھا۔ لاہور میں ایک کافر تھا ہندو اُس نے بہت نیک اعمال کیے، ایک بڑا ہسپتال اُس نے بنایا جسے کہتے ہیں گنگارام ہسپتال، کئی پُل اَور کئی سڑکیںبھی اُس نے بنوائیں اَور بڑا نیک تھا تو لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ جو کافر اِتنے نیک اَعمال کرتے رہے اُن کو کچھ ملے گا؟ تو اللہ تبارک وتعالیٰ جل شانہ' نے سورۂ محمد کے شروع میں اِس کا جواب دیا ہے  اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْ  جو لوگ کافر ہوئے  وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ  اَور اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتے رہے یعنی اُس کا وجود آگے مؤمنین کے لیے ایمان قبول کرنے میں حائل رہا تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں  اَضَلَّ اَعْمَالَھُمْ  اللہ تعالیٰ اُن کے اَعمال گرادیتے ہیں ۔تو جو اُن کے بُرے اعمال ہیں اُن کو تو گرانے کا سوال ہی نہیں وہ تو ہیں ہی برے، توجو گرائے گئے اعمال اُن اعمال سے مراد ہیں کہ اُن کے نیک اعمال گرادِیے یعنی اگر ایمان نہیں تو اعمال کتنے ہی نیک کیوں نہ ہوں سب گرجائیں گے۔ ایمان اِتنی قیمتی چیز ہے کہ جب تک یہ نہ ہو اعمال کی کوئی قیمت نہیں، ہمیں جتنے اُن کے نیک اعمال نظر آتے ہیںوہ سارے گرادیے جائیں گے، اللہ کے  یہاں اُن کا کوئی شمار نہیں اَور اللہ تعالیٰ اُن میں سے اگر کسی کو قبولیت دے تو اُس کی صرف یہی ایک صورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کرنے والے کو ایمان لانے کی توفیق دے دیں۔ کئی ایسے نیک اعمال کرتے کافر دیکھے گئے جو بعد میں مسلمان ہوگئے تو اُن کی قبولیت کا بس صرف ایک ہی طریقہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اُن کو دُنیا میں اِسلام کی توفیق دے دیں، اگر توفیق نہیں تو کبھی اُن کی بخشش نہیں ۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
4 درس حدیث 5 1
5 اِن حضرات کو مطلع کرنے کا فائدہ : 6 4
6 اُستاد کی اہمیت ،بے فیض رہنے کی ایک وجہ 6 4
7 شیعہ حافظ ِقرآن نہیں ہو پاتے ،ایک لطیف وجہ 7 4
8 جھوٹے نبی کی عمر ایک سو چالیس برس سے زائد تھی 7 4
9 سوائے ''مرزا'' کے جھوٹے نبیوں کا معاملہ زیادہ دیر نہیں چلا 7 4
10 جھوٹے نبی کے خلاف حضرت ابوبکر کا جہاد کرنا 8 4
11 چھ سو اَہم صحابہ کرام شہید ہوئے 8 4
12 فرض ِمنصبی ، حضرت 10 4
13 ملفوظات شیخ الاسلام 12 1
14 حضرت عائشہ کی عمر اور حکیم نیاز احمد صاحب کا مغالطہ 14 1
15 پہلامقدمہ : 15 14
16 صلاحِ خواتین 17 1
17 حقوق کا بیان 17 16
18 ماں باپ کے حقوق : 17 16
19 تنبیہ : 17 16
21 سوتیلی ماں کے حقوق : 18 16
22 بہن بھائی کے حقوق : 18 16
23 عورت کے ذ مّہ شوہر کے حقوق : 18 16
24 حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 19 1
25 فضائل و مناقب : 19 24
26 بقیہ : حقوق کا بیان 21 16
27 اِفتتاحی بیان 22 1
28 دین پورا کب ہوتا ہے؟ 33 1
29 گلدستہ ٔ اَحادیث 42 1
31 چار اَشخاص جو حضور علیہ السلام کے زمانہ میں حافظ ِ قرآن تھے 42 29
32 چار اَفرادجن سے علم حاصل کرنے کی حضرت معاذ نے وصیت فرمائی : 42 29
33 ماہ ِذی الحجہ کے فضائل و اَحکام 46 1
34 ماہِ ذی الحجہ کی فضیلت : 46 33
35 قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا اِرشاد ہے : 46 33
36 تشریح : 47 33
37 ایک روایت میں ہے 48 33
38 ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کی فضیلت : 49 33
39 ٩ ذی الحجہ کے روزہ کے فضائل و احکام : 52 33
40 تکبیر تشریق کی حکمت : 54 33
41 حج و قربانی : ماہِ ذی الحجہ کی خاص عبادت 54 33
42 حج کے فضائل : 55 33
43 ''حج'' اِسلام کا اہم رُکن اور فریضہ : 55 33
44 حج کی استطاعت کا مطلب : 57 42
45 قربانی کے فضائل : 58 42
46 دینی مسائل 60 1
47 ( طلاق دینے کا بیان ) 60 46
48 ۔ طلاق ِ صریح : 60 46
49 وفیات 62 1
50 اخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter