ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2008 |
¾اكستان Ù |
|
ہے جوجیب میں ہو، جو پیسہ بنک میں ہو یا جو پیسہ گھر میں ہو معلوم نہیں وقت پروہاں تک جانا ہوگا یا نہیں ہوگا، اپنا مال وہی سمجھیں جو جیب میں ہے اَور اپنا علم وہی سمجھیں جو زبان پر ہو ۔جب سے یہ رواج پیدا ہوگیا کہ علم کا بوجھ دماغ پر نہیں اَوراق پر ڈالتے ہیں تو یہ حافظے کمزور ہونے شروع ہوگئے اَورپھر جب کوئی سوال آئے سامنے تو اُس کے جواب میں پھر ڈھونڈیں کہ کس کاغذ پر لکھا تھا کس کاغذ پر نہیں لکھا تھا اِس کی بجائے اللہ تبارک وتعالیٰ کی حقیقی نصرت کو پکاریں اللہ تعالیٰ فضل کرتا ہے اَور ہم نے بارہا اِن قوموں کا مقابلہ کرتے ہوئے اللہ کی نصرت کو اِس طرح اُترتے دیکھا جس طرح آپ بارش کے وقت قطروں کو اُترتا ہوا دیکھتے ہیں،اللہ تبارک وتعالیٰ فضل کرتا ہے ۔ تو اِس وقت صرف یہ بات کہنی مقصود ہے کہ اِیمان سب سے قیمتی چیز ہے اِس کے برابر اَور کوئی چیز نہیں ۔تو ہم سے بعض اوقات طلباء سوال کرتے ہیں کہ ہم نے نیک اعمال تو بڑے بڑے کافروں کو بھی کرتے دیکھا۔ لاہور میں ایک کافر تھا ہندو اُس نے بہت نیک اعمال کیے، ایک بڑا ہسپتال اُس نے بنایا جسے کہتے ہیں گنگارام ہسپتال، کئی پُل اَور کئی سڑکیںبھی اُس نے بنوائیں اَور بڑا نیک تھا تو لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ جو کافر اِتنے نیک اَعمال کرتے رہے اُن کو کچھ ملے گا؟ تو اللہ تبارک وتعالیٰ جل شانہ' نے سورۂ محمد کے شروع میں اِس کا جواب دیا ہے اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْ جو لوگ کافر ہوئے وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَور اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتے رہے یعنی اُس کا وجود آگے مؤمنین کے لیے ایمان قبول کرنے میں حائل رہا تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اَضَلَّ اَعْمَالَھُمْ اللہ تعالیٰ اُن کے اَعمال گرادیتے ہیں ۔تو جو اُن کے بُرے اعمال ہیں اُن کو تو گرانے کا سوال ہی نہیں وہ تو ہیں ہی برے، توجو گرائے گئے اعمال اُن اعمال سے مراد ہیں کہ اُن کے نیک اعمال گرادِیے یعنی اگر ایمان نہیں تو اعمال کتنے ہی نیک کیوں نہ ہوں سب گرجائیں گے۔ ایمان اِتنی قیمتی چیز ہے کہ جب تک یہ نہ ہو اعمال کی کوئی قیمت نہیں، ہمیں جتنے اُن کے نیک اعمال نظر آتے ہیںوہ سارے گرادیے جائیں گے، اللہ کے یہاں اُن کا کوئی شمار نہیں اَور اللہ تعالیٰ اُن میں سے اگر کسی کو قبولیت دے تو اُس کی صرف یہی ایک صورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کرنے والے کو ایمان لانے کی توفیق دے دیں۔ کئی ایسے نیک اعمال کرتے کافر دیکھے گئے جو بعد میں مسلمان ہوگئے تو اُن کی قبولیت کا بس صرف ایک ہی طریقہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اُن کو دُنیا میں اِسلام کی توفیق دے دیں، اگر توفیق نہیں تو کبھی اُن کی بخشش نہیں ۔