ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2008 |
¾اكستان Ù |
|
قسم کے لوگ بھی جو پاس دیکھنے والے ہوں وہ کہتے ہیں پولیس کو کہ ہمیں گواہوں میں نہ رکھنا۔ گواہی دینا اپنے لیے ایک مستقل طور پر آگے خطرات کا دَروازہ کھول دینا ہے ۔تو جہاں بڑے بڑے بہادر دل بھی کتراتے ہوں گواہی دینے سے تو وہاں عورت کو گواہی میں اگر Discourage کیاگیا تو یہ بوجھ اُس پر نہیں رکھا گیا کیوں؟ اِس لیے کہ اُس کی اَور بڑی ذمّہ داریاں ہیں تو جہاں مرد کے لیے گواہی دینا بھی حالات اِتنا مشکل بنا دیں تو وہاں عورت پر یہ بوجھ نہ ڈالنا یہ اُس کے ساتھ شفقت ہے یا اُس سے نفرت ہے؟ سب نے کہا یہ تو شفقت ہے یہ تو بڑی مہربانی ہے ۔تو بات وہی ایک ہے ذرا اِدھر جھکیں تو بات اَور نظر آتی ہے اَور اُدھر رُخ کریں تو بات اَور نظر آتی ہے اِس لیے اپنی فکر کو اَور اپنی سوچ کو ذرا اُونچا کریں جب تک آفاقی نظر نہ ہو کہ پورے عالَم پر اَور جو کچھ جہاں میں ہورہا ہے اُس پر اَور جس جس طرح کے سوال اُٹھائے جارہے ہیں اُن پر نظر نہ ہو توآپ اپنے علومِ دینی سے فائدہ نہیں اُٹھاسکتے ،اپنے علومِ دینی سے فائدہ اُٹھائیں اِس طرح کہ آپ مختلف قوموں اَور یورپ کے چیلنج کو قبول کریں۔ جو کہتے ہیں کہ اِسلام اِس دَور کے مطابق مغربی دَوڑ نہیں دوڑسکتا حالات کا سامنا نہیں کرسکتا تو یونہی ہمارے کئی مسلمان ساتھی گھبراجاتے ہیں کہ ہاں یہ کہیں گے تو یہ کیا ہوگا یہ کہیں تو یہ کیا ہوگا ۔تو ہم اُنہیںکہتے ہیں کہ جب ہمارے پاس ایک دین ہے اَور وہ سچا ہے اَور ہمارا یقین ہے تو جب یقین ہے تو پھر اِس پر اِس یقین کے ساتھ اُٹھ کھڑے ہوں کہ کوئی ایسا شبہ نہیں جس کا جواب نہ ہو اَور کوئی ایسا ایک اعتراض نہیں ہم جس کا توڑ نہ کرسکیں۔ تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کو دین کی جو اِس لائن میں قبول کیا اَور آپ نے اِس میں آغاز کیا اللہ تعالیٰ اِس میں امتحان کی منزلوں میں کامیاب کرے اَور جب آپ فارغ ہوں تو سمجھیں کہ اَب ہم پربہت بڑی ذمّہ داری آچکی ہے اَور اُس ذمّہ داری میں دو تین باتیں ہیں ایک تو یہ کہ آج کل رواج ایسا ہے میں ایک بات خلاف ِ قاعدہ کہنے لگا ہوںکہ جب کبھی تقریر کریں تو طالب علم لکھنے بیٹھ جاتے ہیں تو میں روکتا تو نہیں لیکن مشورہ دیا کرتا ہوں کہ جنہوں نے علم کا بوجھ دماغ پر نہیں کاغذوں پر ڈالا وہ نہیں جانتے کہ کسی وقت شاید اِس کا غذ تک رسائی نصیب نہ ہوسکے حتی الوسع علم کا بوجھ دماغوں پر ڈالیں جب تک لوگ علم کا بوجھ دماغوں پر ڈالتے رہے اُس وقت تک حافظے تیز ہوتے تھے، آج حافظے کیوں کمزور ہوگئے کہ علم کا بوجھ کاغذوں پر ڈالا اور فارغ ہو گئے تو میں ایک مقولہ کہا کرتا ہوں کہ '' علم دَر کَلہ زَر دَر پَلہ '' علم وہی ہے جو آپ کی زبان پر ہو اَور آپ کا پیسہ وہی