ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2008 |
¾اكستان Ù |
|
کام کرنا ہے اَور کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جو آواز دین کے خلاف اُٹھتی ہے اُس کا جواب لڑائی سے نہیں فکری رسائی سے دینا ہے کہ آپ اُسے سمجھیں۔ ایک چھوٹا سا لطیفہ عرض کرتا ہوں کہ ہم سے اِن ملکوں میں یہ پوچھا گیا کہ اِسلام کی رُو سے مسلمانوں اَور اہل ِ کتاب کے تعلقات کیا ہیں؟ اوراِس کے ساتھ ہی ساتھ یہ سوال کردیا کہ کیا اِن دونوں کی شادی ہوسکتی ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں مسلمان کا نکاح صرف مومن سے ہی ہوگا اِس میں اگر کوئی اِستثنٰی ہے تو وہ یہ کہ اہل ِ کتاب سے شادی ہوسکتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں تصریح کے ساتھ کہا کہ اِن کے ساتھ شادی ہوسکتی ہے ۔تو وہ فورًا کہنے لگے کس طرح؟ میں نے کہا کہ مرد مسلمان ہو اَور عورت جو ہے وہ اہل ِ کتاب میں سے ہو تونکاح ہوسکتا ہے وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ اِذَا اٰتَیْتُمُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ ۔ تو پھردُوسرا سوال کرنے لگا کہ پھر تو برابر کی بات نہ ہوئی ،اگر دونوں ایک دُوسرے کے اِتنا قریب ہیں اہل ِ اسلام اہل ِ کتاب کے اِتنا قریب ہیں توچاہیے کہ پھر دونوں طرف سے نکاح ہوسکے تو یہ کیا مطلب کہ مسلمان اہل ِ کتاب کی لڑکی نکاح میں لے تو سکتا ہے لیکن دے نہیں سکتا تو برابر کے ہونے چاہئیں؟ اَب یہ ہمارے دین کا ہماری شریعت کا مسئلہ ہے۔ تو میں نے فورًا کہا کہ بھائی ہمارے دونوں کے تاریخی پس منظر کو توکوئی جانے ،ہم دو ہیں اہل ِ اسلام اَور اہل ِ کتاب۔ ہم اُن کے پیغمبر کو مانتے ہیں عیسٰی بن مریم کو سب نبی مانتے ہیں ،ہم اُن کے پیغمبر کو مانتے ہیں وہ ہمارے پیغمبر کو نہیں مانتے تو فرق تو پہلے ہی ہوگیا تو جب وہ ہمارے پیغمبر کو نہیں مانتے ہم سے حصّہ نہیں لے سکتے ہم اُن کے پیغمبر کو مانتے ہیں ہم اُن سے حصّہ لے سکتے ہیں لڑکی لے سکتے ہیں ۔تو تاریخی طور پر یہ چیز چونکہ تھی کہ ہم اُن کے پیغمبر کو مانتے ہیں قرآنِ کریم اُن کی رسالت کی نبوت کی تصدیق کرتا ہے اور وہ ہمارے پیغمبر کو نہیں مانتے تو اُن کا اگر ہماری اِس قوم میں حصہ نہ ہو تو بات سمجھ میں آتی ہے اَور ہمارا تو حصّہ وہاں ضرور ہونا چاہیے کیونکہ ہم مانتے ہیں۔اَب یہ بات خواہ ایک عام فہم درجے کی تھی لیکن اُن کے ذہن میں یہ گھرکرگئی کہنے لگے یہ بات بالکل ٹھیک ہے۔ پھر کسی نے سوال کیا کہ اِسلام میں عورت کی گواہی آدھی کیوں ہے اَور مرد کی گواہی پوری ہے تو کیا اِن دونوں کو برابر دَرجہ نہیں دیتے؟ تو اب میں نے اپنے خیال سے ہی بات کہی کہ گواہی دینا مشکل کام ہے یا آسان؟ اُن میں سے ایک دو خود ہی کہنے لگے کہ یہ تو مشکل کام ہے اگر کہیں قتل ہوجائے تو بڑے بڑے بہادر