ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2008 |
¾اكستان Ù |
|
چاہیے بس کبھی یہ کوشش نہ کریں کہ میں دین کا مقتدیٰ بن جاؤں میں امام بن جاؤں میں بڑا آدمی بن جاؤں۔ یہ تصور ہی نہ کریں یہ کوشش ہی نہ کریں، اللہ تعالیٰ خود سے بنادیں وہ بات اَور ہے اپنی طرف سے دل میں اِس چیز کو جگہ نہ دیں اور اگر اِس کو جگہ دے دی تو باطنی بیماری میں مبتلا ہو گئے۔ اِس وقت اللہ نے آپ کو ایسی فرصت دی ہے کہ زندگی میں کبھی یہ فرصت نصیب نہیں ہوگی دیکھیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو گھر میں اور گھر سے باہر ایسا رکھا ہواہے کہ گھر میں آپ کو کہ نہ آٹا گو ندھنا پڑتا ہے نہ روٹی پکانی پڑتی ہے نہ سالن پکانا پڑتا ہے سب ماں پکاکر دے دیتی ہے کپڑے بھی دھونے نہیں پڑتے بہنیں کردیتی ہیں بیوی کردیتی ہے ،یہ بادشاہوں کی طرح رہتا ہے گھر میں۔ مدرسے میں آکر بھی اللہ نے آپ کو بادشاہوں کی طرح رکھا ہوا ہے آپ کو آٹا نہیں گوندھنا پڑتا آپ کو سالن نہیں بنانا پڑتا آپ کو پکّا پکایا اللہ تعالیٰ کھانا دے رہے ہیں وقت پر روٹی دے رہے ہیں وقت پر سالن دے رہے ہیں یہ دین کی برکت سے دے رہے ہیں تو یہ فرصت کے اَوقات کبھی نہیں ملیں گے آپ کو۔ جب آپ فارغ ہوجائیں گے پڑھ کر توآٹے دال کا بھاؤ پتہ چل جائے گا شادی ہوگئی توبس پھر تو سارے ہی ہوش ٹھکانے آجائیں گے، پھر تو انسان کا معاملہ اَور طرح کا ہوتا ہے پھر تو اُسے ہَلدی کا نمک کا مرچ کا ہر چیز کا ریٹ معلوم ہوجاتا ہے اَور ایک پائی زیادہ ہوتی ہے ایک پائی کم ہوتی ہے سب یاد رہتا ہے یہ کم ہورہی ہے یہ بڑھ رہی ہے ،اَب کچھ بھی نہیں پتا ۔تو یہ زندگی کا دَور آپ کے کبھی ہاتھ نہیں آئے گا اِسے ضائع کردیا تو ساری زندگی پچھتائیں گے اَور تلافی نہیں کرسکیں گے۔ ماں باپ کا سایہ اِتنا بڑا پ کے سر پر موجود ہے اُنہوں نے آپ کو بھیجا ہے گھر کے معاملات اُنہوں نے اپنے سر پر لے رکھے ہیں پھریہاں آپ کے لیے سہولت اللہ نے کردی بس زیادہ سے زیادہ اپنے کپڑے دھونے پڑتے ہیں وہ بھی ہفتے میں ایک دن ہوتا ہے ایک دن دھو لیے دو دِن دھولیے۔ اِتنا کام تو انسان کو کرنا ہی چاہیے ورزِش بھی ہے کام کی عادت بھی رہتی ہے یہ تو ہونا چاہیے اور مجاہد ہیں آپ، آپ بیکار آدمی نہیں ہیں اِنشاء اللہ آپ میں سے ہر شخص مجاہد ہے ،مجاہد کو اِن کاموں کا عادی رہنا چاہیے اِن کاموں کے لیے تیار رہنا چاہیے ایسا کام تو کرے گا وہ ورنہ وہ مجاہد کہاں ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ جو آپ کو وقت دیا جیسے کہ یہ علوم آپ ظاہری سارے سیکھ رہے ہیں محنت سے، باطنی علوم کی طرف بھی توجہ دیں تزکیۂ نفس کی طرف بھی ۔باطنی بیماریوں سے بچنے کے لیے ساری زندگی لگ جاتی ہے تو بھی باطنی بیماریوں سے