Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2008

¾اكستان Ù

28 - 64
س سے رجوع کرلیتا ہو کبھی کوئی اُسے کلمۂ حق کہتا ہو یا روک ٹوک کرتا ہو صحیح بات کہتا ہو تو وہ اُسے تسلیم کرتا ہو، یہ چیز ہوتو ایسے آدمی سے بیعت کا تعلق قائم کر لیں اَور اگر کلمۂ حق سننا گوارانہ ہو کوئی روک ٹوک کرے تواُسے برا لگے یہ اچھی نشانی نہیں ہے چاہے کتنا بڑا ہو لیکن اچھی نشانی نہیں ہے خطرناک نشانی ہے۔ اگر غلطی ہوجائے تو اِستغفار کی طرف نہیں آتا بلکہ کرتا ہی رہتا ہے یہ بھی اچھی نشانی نہیں ہے ۔علماء میں بھی ایسی چیزیں موجود ہیں جس میں یہ چیزیں نہ ہوں اتباعِ سُنّت ہو ،یہ نہیں ہوسکتا کہ گناہ ہی نہ ہو ایسا کوئی مرد کامل مِل جائے ، نہیں ملے گا جنید ِبغدادی بھی ایسے نہیں ملیں گے۔ حضرت جنید ِ بغدادی رحمة اللہ بھی ہوں تو یہ نہیں ہوگا کہ وہ گناہ نہ کرتا ہو گناہ ہوجاتا ہے گناہ ہو لیکن اُس کو گناہ ہوتے ہی ایسی ملامت پکڑلے دل کو کہ سچی توبہ جب تک نہ کرلے اُسے چین نہیں پڑتا ،یہ ہے اتباع ِ سُنّت۔
 حدیث میں آتا ہے کُلُّکُمْ خَطَّاؤُنَ وَخَیْرُ الْخَطَّائِیْنَ التَّوَّابُوْنَ  اِس لیے میں نے حضرت جنید ِ بغدادی رحمة اللہ علیہ کا بھی نام لینے کی جرأت کی ورنہ ہم کہاں لے سکتے ہیں نام اُن کا وہ تو بہت بڑے لوگ ہیں ۔حدیث میں چونکہ آرہا ہے کہ تم میں سے ہر ایک خطا کار ہے ہر ایک گناہ گار ہے  کُلُّکُمْ خَطَّاؤُنَ  کوئی استثنٰی نہیں حتی کہ صحابہ کی جماعت جس سے نبی علیہ السلام خطاب فرمارہے ہیں اُن کا بھی یہی حال تھا براہِ راست تو اُنہیں ہی خطاب تھا اُن کے ذریعے پھر آگے اُمت کو ہوا   کُلُّکُمْ خَطَّاؤُنََ  تم میں ہر ایک خطاکار ہے گناہ گار ہے   وَخَیْرُ الْخَطَّائِیْنَ التَّوَّابُوْنَ  تم میں بہترین گناہ گار خطاکار وہ ہیں جو سچی توبہ کرلیں ،غلطی ہوگئی توبہ کرلے بس۔ نیک آدمی سے غلطی ہوتی نہیں بچتا رہتا ہے، عام آدمی کی غلطیوں میں اَور اِس کی غلطی میں بہت فرق ہوتا ہے وہ زیادہ کرتا ہے یہ بہت کم کرتا ہے ،کبھی ہو بھی گیا گناہ تو فورًا توبہ کرے گا رجوع کرے گا اللہ سے ۔
حقوق العباد سے تعلق ہوگا اگر اُس چیز کا تو اُس بندے سے معافی مانگنی چاہیے اُس سے تلافی کرنی چاہیے اور معاملہ دُرست کرنا چاہیے ۔اگر حقوق العباد کا معاملہ ہو تو صرف اللہ سے اِستغفار سے کام نہیں چلتا  پہلے بندے سے معافی مانگنی پڑتی ہے حق دینا پڑتا ہے یا معاف کرانا پڑتا ہے پھر اللہ سے معافی مانگے اور حقوق اللہ  میں اللہ ہی سے اِستغفار کافی ہوتا ہے سچے دل سے۔
 تو یہ جو دَور ہے آپ کا ہو یا ہمارا ہو یہ سب تربیتی دَور ہے مرتے دم تک تربیت ہی چل رہی ہے  اِنسان سیکھ ہی رہا ہے تو اِس میں ہم میں سے ہر ایک کو اپنے آپ کو طالب علم ہی سمجھنا چاہیے اَور دین کا خادم سمجھنا
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
4 درس حدیث 5 1
5 اِن حضرات کو مطلع کرنے کا فائدہ : 6 4
6 اُستاد کی اہمیت ،بے فیض رہنے کی ایک وجہ 6 4
7 شیعہ حافظ ِقرآن نہیں ہو پاتے ،ایک لطیف وجہ 7 4
8 جھوٹے نبی کی عمر ایک سو چالیس برس سے زائد تھی 7 4
9 سوائے ''مرزا'' کے جھوٹے نبیوں کا معاملہ زیادہ دیر نہیں چلا 7 4
10 جھوٹے نبی کے خلاف حضرت ابوبکر کا جہاد کرنا 8 4
11 چھ سو اَہم صحابہ کرام شہید ہوئے 8 4
12 فرض ِمنصبی ، حضرت 10 4
13 ملفوظات شیخ الاسلام 12 1
14 حضرت عائشہ کی عمر اور حکیم نیاز احمد صاحب کا مغالطہ 14 1
15 پہلامقدمہ : 15 14
16 صلاحِ خواتین 17 1
17 حقوق کا بیان 17 16
18 ماں باپ کے حقوق : 17 16
19 تنبیہ : 17 16
21 سوتیلی ماں کے حقوق : 18 16
22 بہن بھائی کے حقوق : 18 16
23 عورت کے ذ مّہ شوہر کے حقوق : 18 16
24 حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 19 1
25 فضائل و مناقب : 19 24
26 بقیہ : حقوق کا بیان 21 16
27 اِفتتاحی بیان 22 1
28 دین پورا کب ہوتا ہے؟ 33 1
29 گلدستہ ٔ اَحادیث 42 1
31 چار اَشخاص جو حضور علیہ السلام کے زمانہ میں حافظ ِ قرآن تھے 42 29
32 چار اَفرادجن سے علم حاصل کرنے کی حضرت معاذ نے وصیت فرمائی : 42 29
33 ماہ ِذی الحجہ کے فضائل و اَحکام 46 1
34 ماہِ ذی الحجہ کی فضیلت : 46 33
35 قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا اِرشاد ہے : 46 33
36 تشریح : 47 33
37 ایک روایت میں ہے 48 33
38 ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کی فضیلت : 49 33
39 ٩ ذی الحجہ کے روزہ کے فضائل و احکام : 52 33
40 تکبیر تشریق کی حکمت : 54 33
41 حج و قربانی : ماہِ ذی الحجہ کی خاص عبادت 54 33
42 حج کے فضائل : 55 33
43 ''حج'' اِسلام کا اہم رُکن اور فریضہ : 55 33
44 حج کی استطاعت کا مطلب : 57 42
45 قربانی کے فضائل : 58 42
46 دینی مسائل 60 1
47 ( طلاق دینے کا بیان ) 60 46
48 ۔ طلاق ِ صریح : 60 46
49 وفیات 62 1
50 اخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter