ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2008 |
¾اكستان Ù |
|
س سے رجوع کرلیتا ہو کبھی کوئی اُسے کلمۂ حق کہتا ہو یا روک ٹوک کرتا ہو صحیح بات کہتا ہو تو وہ اُسے تسلیم کرتا ہو، یہ چیز ہوتو ایسے آدمی سے بیعت کا تعلق قائم کر لیں اَور اگر کلمۂ حق سننا گوارانہ ہو کوئی روک ٹوک کرے تواُسے برا لگے یہ اچھی نشانی نہیں ہے چاہے کتنا بڑا ہو لیکن اچھی نشانی نہیں ہے خطرناک نشانی ہے۔ اگر غلطی ہوجائے تو اِستغفار کی طرف نہیں آتا بلکہ کرتا ہی رہتا ہے یہ بھی اچھی نشانی نہیں ہے ۔علماء میں بھی ایسی چیزیں موجود ہیں جس میں یہ چیزیں نہ ہوں اتباعِ سُنّت ہو ،یہ نہیں ہوسکتا کہ گناہ ہی نہ ہو ایسا کوئی مرد کامل مِل جائے ، نہیں ملے گا جنید ِبغدادی بھی ایسے نہیں ملیں گے۔ حضرت جنید ِ بغدادی رحمة اللہ بھی ہوں تو یہ نہیں ہوگا کہ وہ گناہ نہ کرتا ہو گناہ ہوجاتا ہے گناہ ہو لیکن اُس کو گناہ ہوتے ہی ایسی ملامت پکڑلے دل کو کہ سچی توبہ جب تک نہ کرلے اُسے چین نہیں پڑتا ،یہ ہے اتباع ِ سُنّت۔ حدیث میں آتا ہے کُلُّکُمْ خَطَّاؤُنَ وَخَیْرُ الْخَطَّائِیْنَ التَّوَّابُوْنَ اِس لیے میں نے حضرت جنید ِ بغدادی رحمة اللہ علیہ کا بھی نام لینے کی جرأت کی ورنہ ہم کہاں لے سکتے ہیں نام اُن کا وہ تو بہت بڑے لوگ ہیں ۔حدیث میں چونکہ آرہا ہے کہ تم میں سے ہر ایک خطا کار ہے ہر ایک گناہ گار ہے کُلُّکُمْ خَطَّاؤُنَ کوئی استثنٰی نہیں حتی کہ صحابہ کی جماعت جس سے نبی علیہ السلام خطاب فرمارہے ہیں اُن کا بھی یہی حال تھا براہِ راست تو اُنہیں ہی خطاب تھا اُن کے ذریعے پھر آگے اُمت کو ہوا کُلُّکُمْ خَطَّاؤُنََ تم میں ہر ایک خطاکار ہے گناہ گار ہے وَخَیْرُ الْخَطَّائِیْنَ التَّوَّابُوْنَ تم میں بہترین گناہ گار خطاکار وہ ہیں جو سچی توبہ کرلیں ،غلطی ہوگئی توبہ کرلے بس۔ نیک آدمی سے غلطی ہوتی نہیں بچتا رہتا ہے، عام آدمی کی غلطیوں میں اَور اِس کی غلطی میں بہت فرق ہوتا ہے وہ زیادہ کرتا ہے یہ بہت کم کرتا ہے ،کبھی ہو بھی گیا گناہ تو فورًا توبہ کرے گا رجوع کرے گا اللہ سے ۔ حقوق العباد سے تعلق ہوگا اگر اُس چیز کا تو اُس بندے سے معافی مانگنی چاہیے اُس سے تلافی کرنی چاہیے اور معاملہ دُرست کرنا چاہیے ۔اگر حقوق العباد کا معاملہ ہو تو صرف اللہ سے اِستغفار سے کام نہیں چلتا پہلے بندے سے معافی مانگنی پڑتی ہے حق دینا پڑتا ہے یا معاف کرانا پڑتا ہے پھر اللہ سے معافی مانگے اور حقوق اللہ میں اللہ ہی سے اِستغفار کافی ہوتا ہے سچے دل سے۔ تو یہ جو دَور ہے آپ کا ہو یا ہمارا ہو یہ سب تربیتی دَور ہے مرتے دم تک تربیت ہی چل رہی ہے اِنسان سیکھ ہی رہا ہے تو اِس میں ہم میں سے ہر ایک کو اپنے آپ کو طالب علم ہی سمجھنا چاہیے اَور دین کا خادم سمجھنا