ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2008 |
¾اكستان Ù |
|
سوچیں کہ اُستاد ہی جو بات بتائے گا بس وہ کروں گا، نہیں! اَلْحِکْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ فَحَیْثُ وَجَدَھَا فَھُوَ اَحَقُّ بِھَا اَوْ کَمَا قَالَ عَلَیْہِ السَّلَامُ کہ اچھی بات کہیں سے بھی ملے لے لو یہ ایسے ہے جیسے مومن کی گُمی ہوئی چیز تھی جو اُسے مل گئی جہاں سے ملے مومن ہی اِس کا زیادہ حقدار ہے تو آپ تو مومنین کے طبقے میں ہیں دینی طالب علم بھی ہیں تو آپ زیادہ حقدار ہیں اچھی بات جس سے بھی مل جائے لے لیں۔ آپ کے کم عمر ساتھی کوئی اچھی بات کہہ رہا ہے یا اُس کی اچھی عادت دیکھ رہے ہیں وہ لے لیں، پہننے میں اُٹھنے میں بیٹھنے میں کھانے میں پینے میں کسی معاملات میں جس کی جو اچھی عادت ہو وہ اختیار کرتے چلے جائیں اُسے اپناتے چلے جائیں، صفائی میںنظافت میں نفاست میں اِن عادتوں کو اپنائیں اِسی عمر میں جو بن گئی عادت وہ بن جائے گی ، پھر نہیں تو بس یہ دَور آپ کا تربیت کا ہے پڑھنے کا ہے اِس میں پوری طرح لگے رہیں محنت کرتے رہیں خاص طور پر جو طلباء رابعہ اور خامسہ میں آچکے ہیں وہ تو تزکیۂ نفس کی طرف بھی متوجہ ہوں اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو بھیجا ہے اِس لیے کہ یُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَیُزَکِّیْھِمْ تاکہ اُن کو کتاب اور حکمت سکھائیں وہ سیکھ رہے ہیں آپ نبیوں کی تعلیم کتابوں میںاَور وَیُزَکِّیْھِمْ اُن کا تزکیۂ نفس بھی کریں باطنی تزکیہ بھی کریں ، جیسے ہمیں ظاہری بیماریاںہوتی ہیں کھانسی ہے نزلہ ہے بخار ہے یرقان ہے دسیوں بیماریاں ہیں ایسے باطنی بیماریاں اُس سے زیادہ خطرناک ہیں اُس کی طرف بھی توجہ دیں باطنی بیماریاں ہمارے اَندر پنپتی رہتی ہیں پلتی رہتی ہیں جڑ پکڑلیتی ہیں اَور ہم ''فاضل'' بھی ہوجاتے ہیں فاضل ہونے کے بعد پھر مدرس بھی ہوجاتے ہیں مدرس ہونے کے بعد اعلیٰ مدرس بھی بن جاتے ہیں لیکن اپنے تزکیہ کی طرف توجہ ساری زندگی نہیں ہوتی،ہوتی بھی ہے تو زیادہ سے زیادہ یہ ہوگئے کہ بس کسی سے بیعت کا تعلق قائم کرلیا بس بیعت ہوگئے کافی ہے، صرف بیعت ہونے سے کچھ نہیں ہوتا ،پوری طرح سوچ سمجھ کر تعلق کو قائم کریں جو بھی متبع سُنت نیک ہو بس اتباعِ سنت معیار بنائیں کشف و کرامات پر نہ جائیں ہمارے یہاں یہ بہت ہے کہ کشف و کرامات کی طرف چلتے ہیں ،بھائی کشف و کرامات تو فاسق و فاجر کو بھی ہوتا ہے اُس سے بھی صادر ہوجاتے ہیں اُسے کہا جاتا ہے اِستدراج لیکن عام آدمی اُسے کشف و کرامت سمجھتے ہیں یہ باریک فرق ہر ایک نہیں کرسکتا وہ کشف نہیں ہوتا وہ اِستدراج ہوتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ڈھیل ہوتی ہے اللہ پناہ میں رکھے، ہمیں بھی بچائے سب کو بچائے اس سے۔ اَصل چیز'' اتباعِ سُنّت'' ہے ،متبع سُنّت ہو دین پر چلتا ہو گناہوں سے بچتا ہو گناہ ہوجاتے ہوں تو