Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2008

¾اكستان Ù

26 - 64
بچایا اپنے کو، اپنے کو حقیر جاننا ہے تواضع اور انکساری ہونی ہے عمل میں بھی اپنے اَساتذہ کے ساتھ بھی اپنے بڑوں کے ساتھ بھی جو بڑا ہو چاہے وہ اُستاد نہ بھی وہ بڑا ہے عاجزی اِنکساری اَدب کا معاملہ ہو اُن کے ساتھ۔ 
ساتھیوں میں کوئی عمر کا بڑا ہے ،ساتھیوں میں بھی عمر کا بڑا فرق ہوتا ہے بڑی کلاسوں کے طالب علم تیس تیس سال کے ہوتے ہیں چالیس چالیس سال کے ہوتے ہیں، چھوٹی کلاسوں کے طالب علم اٹھارہ اٹھارہ سال کے ہوتے ہیں عمر کا بڑا فرق ہوتا ہے اِن میں۔ اِن کو چاہیے کہ بڑی عمر والوں کا اَدب کریں اِسی عمر میں اِسی طالب علمی کی زندگی میں جو مشق کرلیں گے وہی ہمیشہ کی عادت بن جائے گی پختہ ہوجائے گی، یہ تربیتی دَور ہے آپ کا اِس میں جیسے ڈھالنا چاہیں گے انشاء اللہ ڈھلیں گے آ سانی سے، بعد میں جو عادت خراب یا اچھی جو بن گئی وہ پختہ ہوجائے گی پھر اُس کو بدلنا مشکل ہے۔
جب ہم پڑھتے تھے تو ہمارے ساتھ پہلا سال دُوسرا تیسرا جو تھا صرف و نحو کا اُس میں دو ساتھی ہمارے تھے وہ بوڑھے تھے پینسٹھ سال سے زیادہ عمر تھی اُن کی، ہماری عمریں تھیں سولہ سترہ اَٹھارہ سال کی، وہ تھے پینسٹھ میں، اُن کے بچے ہم سے بڑے تھے دادا اور نانا بنے ہوئے تھے وہ لوگ، وہ ہمارے ساتھ پڑھتے تھے اُن میں ایک ہوائی فوج کے ریٹائرڈ اَفسر تھے فضائیہ کے اسکوارڈن لیڈر صوفی نام تھا اُن کا وہ ہمارے ہم جماعت تھے، ایک ڈویژنل انجینئر تھے ٹیلیفون کے محکمہ کے ریٹائرڈ تھے بعد میں پورا پڑھا اُنہوں نے،پھر حضرت والد صاحب رحمة اللہ علیہ سے تعلق تھا اُن کا اُن سے خلافت بھی اُن کو ملی بعد میں، سب کچھ بعد میں  بوڑھا ہوکر حاصل کیا، اَب عمر کا اِتنا فرق تھا اُن کا اَور ہمارا ۔پھر تو وہ میرے اُستاد بھی بن گئے تھے انگریزی میں اُن سے پڑھتا تھا مجھے انگریزی پڑھاتے تھے دونوں کبھی وہ کبھی وہ تو اِس حیثیت سے وہ اُستاد بھی تھے ہمارے لیکن بہرحال ہم جماعت ہونے کی وجہ سے ہم اور وہ بے تکلف بھی تھے سب کچھ تھا لیکن ایک اَدب کا معاملہ بھی تھا، یہ رکھنا ضروری ہے۔
تو یہ تربیت کا دَور ہے آپ کا اِس میں آپ اگر ذہن میں یہ سمجھ لیں گے کہ میری تربیت کا دَور ہے تو آپ کو کسی کی روک ٹوک بُری نہیں لگے گی، غصہ نہیں کرنا۔ ورنہ یہ روک ٹوک کرے گا آ پ کہیں گے تو کون ہوتا ہے مجھے کہنے والا چل جا اپنا کام کر، دُوسرے کے روک ٹوک بُری لگتی ہے ۔اَور یہ ذہن بنالیں کہ میری تو اَبھی عمر ہی سیکھنے کی ہے میں تو سیکھنے ہی کے لیے آیا ہوںتو اپنے ساتھیوں کی روک ٹوک بھی بُری نہیں لگے گی وہ بھی نفس قبول کرے گا طبیعت قبول کرے گی، نفس کو دبائیں اور یہ ذہن بنالیں تو اپنی اصلاح آسان ہوجائے گی، اِس لیے یہ نہ
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
4 درس حدیث 5 1
5 اِن حضرات کو مطلع کرنے کا فائدہ : 6 4
6 اُستاد کی اہمیت ،بے فیض رہنے کی ایک وجہ 6 4
7 شیعہ حافظ ِقرآن نہیں ہو پاتے ،ایک لطیف وجہ 7 4
8 جھوٹے نبی کی عمر ایک سو چالیس برس سے زائد تھی 7 4
9 سوائے ''مرزا'' کے جھوٹے نبیوں کا معاملہ زیادہ دیر نہیں چلا 7 4
10 جھوٹے نبی کے خلاف حضرت ابوبکر کا جہاد کرنا 8 4
11 چھ سو اَہم صحابہ کرام شہید ہوئے 8 4
12 فرض ِمنصبی ، حضرت 10 4
13 ملفوظات شیخ الاسلام 12 1
14 حضرت عائشہ کی عمر اور حکیم نیاز احمد صاحب کا مغالطہ 14 1
15 پہلامقدمہ : 15 14
16 صلاحِ خواتین 17 1
17 حقوق کا بیان 17 16
18 ماں باپ کے حقوق : 17 16
19 تنبیہ : 17 16
21 سوتیلی ماں کے حقوق : 18 16
22 بہن بھائی کے حقوق : 18 16
23 عورت کے ذ مّہ شوہر کے حقوق : 18 16
24 حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 19 1
25 فضائل و مناقب : 19 24
26 بقیہ : حقوق کا بیان 21 16
27 اِفتتاحی بیان 22 1
28 دین پورا کب ہوتا ہے؟ 33 1
29 گلدستہ ٔ اَحادیث 42 1
31 چار اَشخاص جو حضور علیہ السلام کے زمانہ میں حافظ ِ قرآن تھے 42 29
32 چار اَفرادجن سے علم حاصل کرنے کی حضرت معاذ نے وصیت فرمائی : 42 29
33 ماہ ِذی الحجہ کے فضائل و اَحکام 46 1
34 ماہِ ذی الحجہ کی فضیلت : 46 33
35 قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا اِرشاد ہے : 46 33
36 تشریح : 47 33
37 ایک روایت میں ہے 48 33
38 ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کی فضیلت : 49 33
39 ٩ ذی الحجہ کے روزہ کے فضائل و احکام : 52 33
40 تکبیر تشریق کی حکمت : 54 33
41 حج و قربانی : ماہِ ذی الحجہ کی خاص عبادت 54 33
42 حج کے فضائل : 55 33
43 ''حج'' اِسلام کا اہم رُکن اور فریضہ : 55 33
44 حج کی استطاعت کا مطلب : 57 42
45 قربانی کے فضائل : 58 42
46 دینی مسائل 60 1
47 ( طلاق دینے کا بیان ) 60 46
48 ۔ طلاق ِ صریح : 60 46
49 وفیات 62 1
50 اخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter