ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2008 |
¾اكستان Ù |
|
بچایا اپنے کو، اپنے کو حقیر جاننا ہے تواضع اور انکساری ہونی ہے عمل میں بھی اپنے اَساتذہ کے ساتھ بھی اپنے بڑوں کے ساتھ بھی جو بڑا ہو چاہے وہ اُستاد نہ بھی وہ بڑا ہے عاجزی اِنکساری اَدب کا معاملہ ہو اُن کے ساتھ۔ ساتھیوں میں کوئی عمر کا بڑا ہے ،ساتھیوں میں بھی عمر کا بڑا فرق ہوتا ہے بڑی کلاسوں کے طالب علم تیس تیس سال کے ہوتے ہیں چالیس چالیس سال کے ہوتے ہیں، چھوٹی کلاسوں کے طالب علم اٹھارہ اٹھارہ سال کے ہوتے ہیں عمر کا بڑا فرق ہوتا ہے اِن میں۔ اِن کو چاہیے کہ بڑی عمر والوں کا اَدب کریں اِسی عمر میں اِسی طالب علمی کی زندگی میں جو مشق کرلیں گے وہی ہمیشہ کی عادت بن جائے گی پختہ ہوجائے گی، یہ تربیتی دَور ہے آپ کا اِس میں جیسے ڈھالنا چاہیں گے انشاء اللہ ڈھلیں گے آ سانی سے، بعد میں جو عادت خراب یا اچھی جو بن گئی وہ پختہ ہوجائے گی پھر اُس کو بدلنا مشکل ہے۔ جب ہم پڑھتے تھے تو ہمارے ساتھ پہلا سال دُوسرا تیسرا جو تھا صرف و نحو کا اُس میں دو ساتھی ہمارے تھے وہ بوڑھے تھے پینسٹھ سال سے زیادہ عمر تھی اُن کی، ہماری عمریں تھیں سولہ سترہ اَٹھارہ سال کی، وہ تھے پینسٹھ میں، اُن کے بچے ہم سے بڑے تھے دادا اور نانا بنے ہوئے تھے وہ لوگ، وہ ہمارے ساتھ پڑھتے تھے اُن میں ایک ہوائی فوج کے ریٹائرڈ اَفسر تھے فضائیہ کے اسکوارڈن لیڈر صوفی نام تھا اُن کا وہ ہمارے ہم جماعت تھے، ایک ڈویژنل انجینئر تھے ٹیلیفون کے محکمہ کے ریٹائرڈ تھے بعد میں پورا پڑھا اُنہوں نے،پھر حضرت والد صاحب رحمة اللہ علیہ سے تعلق تھا اُن کا اُن سے خلافت بھی اُن کو ملی بعد میں، سب کچھ بعد میں بوڑھا ہوکر حاصل کیا، اَب عمر کا اِتنا فرق تھا اُن کا اَور ہمارا ۔پھر تو وہ میرے اُستاد بھی بن گئے تھے انگریزی میں اُن سے پڑھتا تھا مجھے انگریزی پڑھاتے تھے دونوں کبھی وہ کبھی وہ تو اِس حیثیت سے وہ اُستاد بھی تھے ہمارے لیکن بہرحال ہم جماعت ہونے کی وجہ سے ہم اور وہ بے تکلف بھی تھے سب کچھ تھا لیکن ایک اَدب کا معاملہ بھی تھا، یہ رکھنا ضروری ہے۔ تو یہ تربیت کا دَور ہے آپ کا اِس میں آپ اگر ذہن میں یہ سمجھ لیں گے کہ میری تربیت کا دَور ہے تو آپ کو کسی کی روک ٹوک بُری نہیں لگے گی، غصہ نہیں کرنا۔ ورنہ یہ روک ٹوک کرے گا آ پ کہیں گے تو کون ہوتا ہے مجھے کہنے والا چل جا اپنا کام کر، دُوسرے کے روک ٹوک بُری لگتی ہے ۔اَور یہ ذہن بنالیں کہ میری تو اَبھی عمر ہی سیکھنے کی ہے میں تو سیکھنے ہی کے لیے آیا ہوںتو اپنے ساتھیوں کی روک ٹوک بھی بُری نہیں لگے گی وہ بھی نفس قبول کرے گا طبیعت قبول کرے گی، نفس کو دبائیں اور یہ ذہن بنالیں تو اپنی اصلاح آسان ہوجائے گی، اِس لیے یہ نہ