ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2008 |
¾اكستان Ù |
|
لذت کا لمحہ کوئی آئے گا ہی نہیں اگر اللہ نے خاتمہ ایمان پر کردیا اورقبول فرمالیا ۔ تو یہ لمحہ بڑا فرحت بخش ہوگا مومن کے لیے،اِس لیے اِس راستے میں یہ آپ کو آسانیاں ہوں گی یا سہولتیں ملیں گی یا کوئی دُنیاوی مفادات ملیں گے یہ نہیں ہوسکتا یہ ذہن سے نکال دیں آج ، اِس راستے میں کانٹے ہیں خار ہیں،اِس راستے میں نفس کے ساتھ ایک مسلسل جنگ ہے مرتے دم تک چلتی رہے گی وَمَآ اُبَرِّیُٔ نَفْسِیْ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَة بِالسُّوْئِ نبی یہ کہہ رہے ہیں یوسف علیہ السلام ہماری تو کوئی حیثیت ہی نہیں جب وہ زُلیخا کا فتنہ ہوا اُس سے وہ بچ کر نکل گئے اور اللہ نے بچالیا تو وہ یہی کہہ رہے تھے۔ وَمَآ اُبَرِّیُٔ نَفْسِی اِس سے میرے نفس نے مجھے نہیں نکالا اِس مشکل سے اِس آزمائش سے اِس خرابی سے مجھے میرے نفس نے نہیں بچایا اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَة بِالسُّوْئِ نفس تو بہت زیادہ حکم دیتا ہے اِنسان کو بُرائیوں کایہ تو کھینچتا ہے ہر وقت یہ کرلے کرلے کرلے، کرلے پھرتوبہ کرلیجیے ،پھر آخر میں یہ بھی سکھاتا ہے کرتے ہی توبہ کرلینا لَاَمَّارَة بِالسُّوْئِ حکم بھی دیتا ہے اَور ترکیبیں بھی بتاتا ہے دونوں کام کرتا ہے نفس ، ساتھ شیطان بھی ہوتا ہے اِلَّا مَارَحِمَ رَبِّیْ مگر جس پر میرا رب رحم کردے وہ بچ نکلتا ہے اُسے اللہ بچا لیتا ہے تو مشکلات اور تکلیفیں اِس میں آئیں گی یا جو رَاہیں بند نظر آرہی ہیں یا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے ،یہ ایک آزمائش ہے آپ پر۔ آپ دیکھیں گے وقت کے ساتھ ساتھ روشنی ہوتی چلی جائے گی تاریکیاں دُور ہوں گی راہیں کھلیں گی مستقبل میں آپ کی، اللہ آپ سے کام لے گا لیکن بشرطیکہ اِخلاص ہو ، اگر آپ اخلاص کے ساتھ پوری جفاکش پوری محنت کے ساتھ لگے رہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو ضائع نہیں کرے گا، اِنشاء اللہ۔ غیبی تائید و نصرت ہو گی سکون و اطمینان ہوگا بس لگے رہیں اپنے کوحقیر نہ سمجھیں ، مطلب یہ ہے کہ دُنیا داروں کی وجہ سے یہ کہ ہمارے پاس دُنیا نہیں ہے اِس لیے ہم حقیر ہیں یہ نہ سمجھیں،ویسے تو حقیر ہی سمجھنا چاہیے ، ہیں ہی ہم حقیر، ہر آدمی کواپنے آپ کو حقیر سمجھنا چاہیے۔ حضرت مجدد الف ِ ثانی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی معرفت اور خوشنودی اَور اِس چیز کا جو حصہ ہے معمولی سابھی وہ اُس وقت تک نصیب نہیں ہوگا جب تک اپنے کو فرنگی سے بھی ذلیل اور حقیر نہ سمجھے، تو حقیر تو سمجھنا ہے کہ میں حقیر ہوں جیسے یوسف علیہ السلام بھی سمجھ رہے ہیں کہ میں حقیر ہوں کچھ نہیں تھا میرے پاس وَمَآ اُبَرِّیُٔ نَفْسِی اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَة بِالسُّوْئِ اِلَّا مَارَحِمَ رَبِّیْ مجھے تو رب نے بچایا ہے میں نے نہیں