ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2008 |
اكستان |
|
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر قاتلا نہ حملہ ہوا جوناکام ہوگیا وہ بچ گئے ورنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر بھی اُسی وقت حملہ ہوا اُنہیں بھی قتل کرنے کے لیے نکلے تھے منصوبہ بنایا تھا کہ اِدھر اِنہیں مارنا ہے اُدھر اُنہیں مارنا ہے بچ گئے لیکن قاتلانہ حملے ہوئے کیونکہ سیاسی شخصیت (بھی)تھے سیاسی دُشمنی تھی حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت علی کی بھی توسیاست میں تو ایسے ہوتاہے یہ تو اکابر کا طریقہ ہے ۔حضرت امام ابوحنیفہ کی جیل میں وفات ہوئی جیل میں(زہر کا) پیالہ پلایا اُنہیں سیاسی اِختلاف کے وجہ سے اُن کے سامنے رکھا کہ یہ پئیں اُنہوں نے کہا یہ خودکشی ہے میں کیسے پیؤ ںبوڑھے تھے ستراَسی سال اُن کی عمرتھی زبردستی پکڑکر لٹایا اُن کے منہ میں زہر کاپیالہ ڈالا جس کے بعد اُن کی شہادت ہوگئی توامام صاحب سیاست میں تھے جس کی وجہ سے یہ ہوا۔ امام ابویوسف سیاست کی وجہ سے اِقتدار میں شامل ہوئے اُنہوں(یعنی امام ابوحنیفہ ) نے سیاسی بنیاد پراقتدار میں آنے سے اِنکار کیا تووہ (جیل) چلے گئے بعد میںحالا ت بدل گئے اور بہتر تھا جانا تو وہ امام ابویوسف چلے گئے ،اُن کو اقتدارمیں جانے کی وجہ سے گالیاں پڑیں اِنہیں اِقتدار کو ٹھکرانے کی وجہ سے یہ سزا بُھکتنی پڑی اُنہیں اقتدار میںجانے کی وجہ سے لوگوں نے برا بھلا کہنا شروع کیا۔ توبھائی علماء اِقتدار میں جاتے بھی ہیں اور نہیں بھی جاتے جیسے حالات ہوں ویسا فیصلہ کرتے ہیںاَب کوئی اپنی کم عقلی کی وجہ سے اِن کی مخالفت پر اُترآئے تواپنا بربادہ کرے گا۔ اَب آپ کو میں ایک واقعہ اور سُنادُوں حضرت امام ابو یوسف کی آج تک مخالفت کرتے ہیں مشتشرقین کہ یہ تو سامراجی تھے یہ بِک گئے اور اِقتدار میں شامل ہوگئے ۔خیر اُن کی وفات ہوگئی کسی نے خواب دیکھا کہ جنت دھوئی جارہی ہے اور فرشتوں میں ہل چل مچی ہوئی ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے پاس سے ایک فرشتہ گزرا میں نے اُس سے کہا کہ یہ کیا معاملہ ہے یہ ہل چل کیوں مچی ہوئی ہے؟کہنے لگا فرشتہ کہ تمہیں نہیں پتہ؟ کہنے لگے کہ مجھے نہیں پتا، کہا کہ آج یعقوب آرہے ہیں اِمام ابو یوسف کا نام یعقوب تھا وہ آرہے ہیں تواللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ جنت کو دھویا جائے اور اللہ نے ہمیں یہ بھی حکم دیا ہے کہ اُن کو پہلے میرے پاس لانا میں اُن پر موتی نچھاور کروں گا پھر جنت میں اُن کے ٹھکانے پر لے جانا اِمام ابو یوسف کو جنہوں نے اِقتدار قبول کیا جنہوں نے عہدہ ٔقضا قبول کیا چیف جسٹس کاجنہیں سامراجی کہا گیاجنہیں بِکنے والا کہا گیا۔ حضرت والدصاحب فرماتے تھے کہ سیاسی علماء جو مخلص ہیں اور صحیح راستے پر چلتے ہیںقیامت کے